العربية (الأصل)
وَمِنْهَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ ثنا أَبُو الْيَمَانِ الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ الْبَهْرَانِيُّ ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنِ الْأَزْهَرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي عَامِرٍ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لُحَيٍّ قَالَ حَجَجْنَا مَعَ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ أُخْبِرَ بِقَاصٍّ يَقُصُّ عَلَى أَهْلِ مَكَّةَ مَوْلًى لِبَنِي فَرُّوخٍ فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مُعَاوِيَةُ فَقَالَ أُمِرْتَ بِهَذِهِ الْقِصَصِ؟ قَالَ لَا قَالَ فَمَا حَمَلَكَ عَلَى أَنْ تَقُصَّ بِغَيْرِ إِذْنٍ قَالَ نُنْشِئُ عِلْمًا عَلَمَنَاهُ اللَّهُ ﷻ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ لَوْ كُنْتُ تَقَدَّمْتُ إِلَيْكَ لَقَطَعْتُ مِنْكَ طَائِفَةً ثُمَّ قَامَ حِينَ صَلَّى الظُّهْرَ بِمَكَّةَ فَقَالَ قَالَ النَّبِيُّ ﷺ «إِنَّ أَهْلَ الْكِتَابِ تَفَرَّقُوا فِي دِينِهِمْ عَلَى اثْنَتَيْنِ وَسَبْعِينَ مِلَّةً وَتَفْتَرِقُ هَذِهِ الْأُمَّةُ عَلَى ثَلَاثٍ وَسَبْعِينَ كُلُّهَا فِي النَّارِ إِلَّا وَاحِدَةً وَهِيَ الْجَمَاعَةُ وَيَخْرُجُ مِنْ أُمَّتِي أَقْوَامٌ تَتَجَارَى بِهِمْ تِلْكَ الْأَهْوَاءُ كَمَا يَتَجَارَى الْكَلْبُ بِصَاحِبِهِ فَلَا يَبْقَى مِنْهُ عِرْقٌ وَلَا مَفْصِلٌ إِلَّا دَخَلَهُ وَاللَّهِ يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ لَئِنْ لَمْ تَقُومُوا بِمَا جَاءَ بِهِ مُحَمَّدٌ ﷺ لَغَيْرُ ذَلِكَ أَحْرَى أَنْ لَا تَقُومُوا بِهِ» «هَذِهِ أَسَانِيدُ تُقَامُ بِهَا الْحُجَّةُ فِي تَصْحِيحِ هَذَا الْحَدِيثِ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ بِإِسْنَادَيْنِ تَفَرَّدَ بِأَحَدِهِمَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ الْأَفْرِيقِيُّ وَالْآخَرُ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيُّ وَلَا تَقُومُ بِهِمَا الْحُجَّةُ» هذه أسانيد تقوم بها الحجة
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Abbas Muhammad ibn Ya'qub narrated to us... from Abu Amir Abdullah ibn Luhayy who said: We performed Hajj with Hadrat Mu'awiyah ibn Abi Sufyan (may Allah be well pleased with him). When we arrived in Makkah, he was informed of a storyteller preaching to the people of Makkah, a client of Banu Farrukh. Mu'awiyah sent for him and asked: Were you commanded to deliver these stories? He said: No. He asked: Then what compelled you to tell stories without permission? The man replied: We spread knowledge that Allah taught us. Mu'awiyah said: Had I warned you beforehand, I would have cut off a part of you. Then he stood after praying Dhuhr in Makkah and said: The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Indeed, the People of the Book split in their religion into seventy-two sects, and this Ummah will split into seventy-three — all of them in the Fire except one, which is the Congregation (al-Jama'ah). And there will emerge from my Ummah peoples in whom those desires will run as rabies runs through its victim, leaving no vein or joint except that it enters it. By Allah, O community of Arabs, if you do not uphold what Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) brought, you are even less likely to uphold anything else." These are chains of narration by which the proof is established for authenticating this hadith.
الترجمة الأردية
ابو عامر عبداللہ بن لحی سے روایت ہے کہ ہم نے حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حج کیا۔ جب ہم مکہ پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ایک قاص اہل مکہ کو واعظ سنا رہا ہے جو بنی فروخ کا آزاد کردہ غلام ہے۔ معاویہ نے اسے بلوایا اور فرمایا: کیا تجھے اس قصہ گوئی کا حکم دیا گیا ہے؟ اس نے کہا: نہیں۔ فرمایا: پھر بغیر اجازت قصے بیان کرنے پر تجھے کس بات نے مجبور کیا؟ اس نے کہا: ہم وہ علم پھیلاتے ہیں جو اللہ نے ہمیں سکھایا ہے۔ معاویہ نے فرمایا: اگر میں نے تجھے پہلے تنبیہ کی ہوتی تو تیرا کوئی حصہ کاٹ ڈالتا۔ پھر مکہ میں ظہر کی نماز کے بعد کھڑے ہوئے اور فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اہل کتاب اپنے دین میں بہتر ملتوں میں بٹ گئے، اور یہ امت تہتر فرقوں میں بٹے گی — سب آگ میں ہوں گے سوائے ایک کے اور وہ جماعت ہے۔ اور میری امت میں سے ایسی قومیں نکلیں گی جن میں وہ خواہشات ایسے دوڑیں گی جیسے کتے کا جنون اپنے مریض میں دوڑتا ہے، کوئی رگ اور جوڑ نہیں بچے گا مگر وہ اس میں داخل ہو جائے گا۔ اللہ کی قسم! اے عربوں کی جماعت! اگر تم نے وہ قائم نہ رکھا جو محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لائے ہیں تو کسی اور چیز کو قائم رکھنا تمہارے لیے اور بھی مشکل ہے۔" یہ ایسی اسانید ہیں جن سے اس حدیث کی تصحیح میں حجت قائم ہوتی ہے۔
