العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الْخَضِرُ بْنُ أَبَانَ الْهَاشِمِيُّ ثنا سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ ثنا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ كَانَ سَلْمَانُ فِي عِصَابَةٍ يَذْكُرُونَ اللَّهَ فَمَرَّ بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ فَجَاءَهُمْ قَاصِدًا حَتَّى دَنَا مِنْهُمْ فَكَفُّوا عَنِ الْحَدِيثِ إِعْظَامًا لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَقَالَ «مَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ؟ فَإِنِّي رَأَيْتُ الرَّحْمَةَ تَنْزِلُ عَلَيْكُمْ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أُشَارِكَكُمْ فِيهَا» «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ وَلَمْ يُخَرّ��جَاهُ وَقَدِ احْتَجَّا بِجَعْفَرِ بْنِ سُلَيْمَانَ فَأَمَّا أَبُو سَلَمَةَ سَيَّارُ بْنُ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ فَإِنَّهُ عَابِدُ عَصْرِهِ وَقَدْ أَكْثَرَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ الرِّوَايَةَ عَنْهُ» صحيح
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Abbas Muhammad ibn Ya'qub narrated to us... from Hadrat Salman al-Farisi (may Allah be well pleased with him) who said: Salman was in a group remembering Allah, and the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) passed by them and came to them deliberately until he drew near. They stopped their speech out of reverence for the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He stated: "What were you saying? For indeed, I saw mercy descending upon you and I wished to share it with you." This hadith is authentic, and the two Shaykhs did not include it. They both relied on Ja'far ibn Sulayman. As for Abu Salamah Sayyar ibn Hatim al-Zahid, he was the worshipper of his era, and Ahmad ibn Hanbal narrated extensively from him. [Authentic]
الترجمة الأردية
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سلمان ایک جماعت میں تھے جو اللہ کا ذکر کر رہی تھی۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس سے گزرے اور قصداً ان کی طرف آئے یہاں تک کہ قریب ہو گئے۔ وہ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم میں بات سے رک گئے۔ فرمایا: "تم کیا کہہ رہے تھے؟ میں نے دیکھا کہ تم پر رحمت نازل ہو رہی تھی تو میں نے چاہا کہ تمہارے ساتھ اس میں شریک ہو جاؤں۔" یہ حدیث صحیح ہے اور شیخین نے اسے تخریج نہیں کیا۔ انہوں نے جعفر بن سلیمان سے احتجاج کیا ہے۔ جہاں تک ابو سلمہ سیار بن حاتم زاہد کا تعلق ہے تو وہ اپنے دور کے عابد تھے اور احمد بن حنبل نے ان سے بکثرت روایت کی ہے۔ [صحیح]
