العربية (الأصل)
أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمُزَكِّي بِمَرْوَ ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَنْصَارِيُّ ثنا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ عَنْ أَبِي نَوْفَلِ بْنِ أَبِي عَقْرَبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ لَهَبُ بْنُ أَبِي لَهَبٍ يَسُبُّ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ «اللَّهُمَّ سَلِّطْ عَلَيْهِ كَلْبَكَ» فَخَرَجَ فِي قَافِلَةٍ يُرِيدُ الشَّامَ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ دَعْوَةَ مُحَمَّدٍ ﷺ قَالُوا لَهُ كَلَّا فَحَطُّوا مَتَاعَهُمْ حَوْلَهُ وَقَعَدُوا يَحْرُسُونَهُ فَجَاءَ الْأَسَدُ فَانْتَزَعَهُ فَذَهَبَ بِهِ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح كَانَ لَهَبُ بْنُ أَبِي لَهَبٍ يَسُبُّ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ «اللَّهُمَّ سَلِّطْ عَلَيْهِ كَلْبَكَ» فَخَرَجَ فِي قَافِلَةٍ يُرِيدُ الشَّامَ فَنَزَلَ مَنْزِلًا فَقَالَ إِنِّي أَخَافُ دَعْوَةَ مُحَمَّدٍ ﷺ قَالُوا لَهُ كَلَّا فَحَطُّوا مَتَاعَهُمْ حَوْلَهُ وَقَعَدُوا يَحْرُسُونَهُ فَجَاءَ الْأَسَدُ فَانْتَزَعَهُ فَذَهَبَ بِهِ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح
الترجمة الإنجليزية
Abu Bakr ibn Abi Nasr al-Muzakki informed me at Marw — al-Harith ibn Abi Usama narrated to us — al-Abbas ibn al-Fadl al-Ansari narrated to us — al-Aswad ibn Shayban narrated to us — from Abu Nawfal ibn Abi Aqrab — from his father who said: Lahab ibn Abi Lahab used to revile the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), so the Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: O Allah, set upon him Your beast. So he went out in a caravan intending Syria and halted at a place. He said: I fear the supplication of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him). They said to him: No, do not worry. So they placed their belongings around him and sat guarding him. Then a lion came and snatched him away. This hadith has an authentic chain of narration, and they did not narrate it.
الترجمة الأردية
ابو بکر بن ابی نصر المزکّی نے مجھے مرو میں خبر دی — حارث بن ابی اسامہ نے ہم سے بیان کیا — عباس بن فضل الانصاری نے ہم سے بیان کیا — اسود بن شیبان نے ہم سے بیان کیا — ابو نوفل بن ابی عقرب سے — اُن کے والد سے روایت ہے کہ لَہَب بن ابی لَہَب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اپنا درندہ اِس پر مسلّط کر دے۔ پھر وہ ایک قافلے میں شام کی طرف نکلا اور ایک جگہ اُترا۔ اُس نے کہا: مجھے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بددعا کا خوف ہے۔ لوگوں نے اُسے کہا: ایسا نہیں ہوگا۔ تو اُنہوں نے اُس کے گرد اپنا سامان رکھ دیا اور اُس کی حفاظت میں بیٹھ گئے۔ پھر شیر آیا اور اُسے چھین کر لے گیا۔ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اُنہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
