العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ ثنا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ثنا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَقُولُونَ إِنَّ اللَّهَ يَنْفَعُنَا بِالْأَعْرَابِ وَمَسَائِلِهِمْ أَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ يَوْمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ شَجَرَةً مُؤْذِيَةً وَمَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ تُؤْذِي صَاحِبَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «وَمَا هِيَ؟» قَالَ السِّدْرُ فَإِنَّ لَهَا شَوْكًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ {فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ} [الواقعة 28] يَخْضِدُ اللَّهُ شَوْكَهُ فَيُجْعَلُ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَةٍ ثَمَرَةٌ فَإِنَّهَا تُنْبِتُ ثَمَرًا تُفْتَقُ الثَّمَرَةُ مَعَهَا عَنِ اثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ لَوْنًا مَا مِنْهَا لَوْنٌ يُشْبِهُ الْآخَرَ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ يَقُولُونَ إِنَّ اللَّهَ يَنْفَعُنَا بِالْأَعْرَابِ وَمَسَائِلِهِمْ أَقْبَلَ أَعْرَابِيٌّ يَوْمًا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ ذَكَرَ اللَّهُ فِي الْقُرْآنِ شَجَرَةً مُؤْذِيَةً وَمَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ فِي الْجَنَّةِ شَجَرَةٌ تُؤْذِي صَاحِبَهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ «وَمَا هِيَ؟» قَالَ السِّدْرُ فَإِنَّ لَهَا شَوْكًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ {فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ} [الواقعة 28] يَخْضِدُ اللَّهُ شَوْكَهُ فَيُجْعَلُ مَكَانَ كُلِّ شَوْكَةٍ ثَمَرَةٌ فَإِنَّهَا تُنْبِتُ ثَمَرًا تُفْتَقُ الثَّمَرَةُ مَعَهَا عَنِ اثْنَيْنِ وَسَبْعِينَ لَوْنًا مَا مِنْهَا لَوْنٌ يُشْبِهُ الْآخَرَ «صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» صحيح
الترجمة الإنجليزية
Abu al-Abbas Muhammad ibn Ya'qub narrated to us — al-Rabi' ibn Sulayman narrated to us — Bishr ibn Bakr narrated to us — Safwan ibn Amr narrated to us — from Sulaym ibn Amir — from Hadrat Abu Umama (may Allah be well pleased with him) who said: The Companions of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) used to say: Indeed Allah benefits us through the Bedouins and their questions. One day a Bedouin came and said: O Messenger of Allah, Allah has mentioned a harmful tree in the Quran, and I did not think that there would be a tree in Paradise that harms its owner. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "What is it?" He said: The thorn tree (al-sidr), for it has thorns. He stated: "Does Allah not say: {Among thornless lote trees} [al-Waqi'a 28]? Allah removed its thorns and placed a fruit in place of every thorn. Indeed it produces seventy-two kinds of fruit, no two of which resemble each other."
الترجمة الأردية
ابو العباس محمد بن یعقوب نے ہم سے بیان کیا — ربیع بن سلیمان نے ہم سے بیان کیا — بشر بن بکر نے ہم سے بیان کیا — صفوان بن عمرو نے ہم سے بیان کیا — سُلَیم بن عامر سے — حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ صحابۂ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: بے شک اللہ ہمیں اَعرابیوں اور اُن کے سوالات سے فائدہ پہنچاتا ہے۔ ایک دن ایک اَعرابی آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ نے قرآن میں ایک تکلیف دہ درخت کا ذکر فرمایا ہے اور میں نہیں سمجھتا تھا کہ جنّت میں کوئی درخت اپنے مالک کو تکلیف دے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ کیا ہے؟ عرض کیا: بیری کا درخت، کیونکہ اُس میں کانٹے ہوتے ہیں۔ ارشاد فرمایا: کیا اللہ نے نہیں فرمایا: {بے کانٹوں کی بیری میں} [الواقعہ 28]؟ اللہ نے اُس کے کانٹے اُتار دیے اور ہر کانٹے کی جگہ ایک پھل رکھ دیا۔ بے شک وہ بہتّر قسم کے پھل پیدا کرتا ہے جن میں سے کوئی دو ایک جیسے نہیں۔
