العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِيسَى السَّبِيعِيُّ بِالْكُوفَةِ ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمِ بْنِ أَبِي غَرَزَةَ ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ ثنا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ عَنِ الطُّفَيْلِ بْنِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ إِذَا ذَهَبَ رُبْعُ اللَّيْلِ قَامَ فَقَالَ «يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا اللَّهَ جَاءَتِ الرَّاجِفَةُ تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ جَاءَ الْمَوْتُ بِمَا فِيهِ» فَقَالَ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُكْثِرُ الصَّلَاةَ عَلَيْكَ فَكَمْ أَجْعَلُ لَكَ مِنْهَا؟ قَالَ «مَا شِئْتَ» قَالَ الرُّبُعُ؟ قَالَ «مَا شِئْتَ وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قَالَ النِّصْفُ؟ قَالَ «مَا شِئْتَ وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكَ» قَالَ الثُّلُثَيْنِ؟ قَالَ «مَا شِئْتَ وَإِنْ زِدْتَ فَهُوَ خَيْرٌ» قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجْعَلُهَا كُلَّهَا لَكَ؟ قَالَ «إِذًا تُكْفَى هَمَّكَ وَيُغْفَرُ لَكَ ذَنْبُكَ»
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Ubayy ibn Ka'b (may Allah be well pleased with him) narrated: 'When a quarter of the night had passed, the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) would stand and say: "O people, remember Allah! O people, remember Allah! O people, remember Allah! The quaking blast has come, followed by the subsequent one. Death has come with all that it contains. Death has come with all that it contains." Ubayy ibn Ka'b submitted: "O Messenger of Allah, I send abundant blessings upon you. How much of my supplication should I devote to you?" He stated: "Whatever you wish." He said: "A quarter?" He stated: "Whatever you wish, and if you increase, it is better for you." He said: "A half?" He stated: "Whatever you wish, and if you increase, it is better for you." He said: "Two-thirds?" He stated: "Whatever you wish, and if you increase, it is better." He submitted: "O Messenger of Allah, shall I devote all of it to you?" He stated: "Then your worry will be sufficed and your sin will be forgiven."'
الترجمة الأردية
حضرت اُبَیّ بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: 'جب رات کا چوتھائی حصہ گزر جاتا تو حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوتے اور فرماتے: "اے لوگو! اللہ کو یاد کرو! اے لوگو! اللہ کو یاد کرو! اے لوگو! اللہ کو یاد کرو! زلزلے والی آ گئی، اس کے بعد والی اس کے پیچھے آ رہی ہے۔ موت آ گئی جو کچھ اس میں ہے اس سمیت۔ موت آ گئی جو کچھ اس میں ہے اس سمیت۔" حضرت اُبَیّ بن کعب نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر کثرت سے درود بھیجتا ہوں۔ اپنی دعا میں سے کتنا آپ کے لیے مختص کروں؟ فرمایا: "جتنا چاہو۔" عرض کیا: چوتھائی؟ فرمایا: "جتنا چاہو اور اگر زیادہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔" عرض کیا: آدھا؟ فرمایا: "جتنا چاہو اور اگر زیادہ کرو تو تمہارے لیے بہتر ہے۔" عرض کیا: دو تہائی؟ فرمایا: "جتنا چاہو اور اگر زیادہ کرو تو بہتر ہے۔" عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ساری دعا آپ کے لیے مختص کر دوں؟ فرمایا: "تب تمہاری فکر کفایت ہو جائے گی اور تمہارا گناہ بخش دیا جائے گا۔"'
