العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ثنا الْمَسْعُودِيُّ عَنْ أَبِي صَخْرَةَ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ عَنْ بُرَيْدَةَ الْأَسْلَمِيِّ قَالَ دَخَلَ قَوْمٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ فَجَعَلُوا يَسْأَلُونَهُ يَقُولُونَ أَعْطِنَا حَتَّى سَاءَهُ ذَلِكَ وَدَخَلَ عَلَيْهِ آخَرُونَ فَقَالُوا جِئْنَا نُسَلِّمُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَنَتَفَقَّهُ فِي الدِّينِ وَنَسْأَلُهُ عَنْ بَدْءِ هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ «كَانَ اللَّهُ وَلَا شَيْءَ غَيْرُهُ وَكَانَ الْعَرْشُ عَلَى الْمَاءِ وَكَتَبَ فِي الذِّكْرِ كُلَّ شَيْءٍ ثُمَّ خَلَقَ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ» قَالَ ثُمَّ أَتَاهُ آتٍ فَقَالَ إِنَّ نَاقَتَكَ قَدْ ذَهَبَتْ قَالَ فَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ تَرَكْتُهَا
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Buraydah al-Aslami (may Allah be well pleased with him) narrated: Some people came to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and kept asking him, saying: Give us, give us, until it displeased him. Then others came and said: We have come to greet the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), to gain understanding of the religion, and to ask about the beginning of this matter. He stated: "Allah existed and there was nothing else, and the Throne was upon the water, and He wrote everything in the Remembrance, then He created the seven heavens." Then someone came and said: Your she-camel has run away. He said: I wish I had left her.
الترجمة الأردية
حضرت بریدہ اسلمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سوال کرتے رہے کہ ہمیں دیجیے، ہمیں دیجیے، یہاں تک کہ آپ کو ناگوار گزرا۔ پھر دوسرے لوگ آئے اور عرض کیا: ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے، دین کی سمجھ حاصل کرنے اور اس معاملے کی ابتدا کے بارے میں پوچھنے آئے ہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اللہ تھا اور اس کے سوا کچھ نہ تھا، اور عرش پانی پر تھا، اور اس نے ذکر (لوحِ محفوظ) میں ہر چیز لکھ دی، پھر سات آسمان پیدا فرمائے۔ پھر ایک شخص آیا اور کہا: آپ کی اونٹنی بھاگ گئی ہے۔ آپ نے فرمایا: کاش میں نے اسے چھوڑ دیا ہوتا۔
