العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَالِدِ بْنِ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مَزْيَدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ سَعْدٍ ، أَنَّهُ أَتَى ابْنَ مُنَبِّهٍ فَسَأَلَهُ عَنْ الْحَسَنِ، وَقَالَ لَهُ : كَيْفَ عَقْلُهُ؟ فَأَخْبَرَهُ، ثُمَّ قَالَ : إِنَّا لَنَتَحَدَّثُ، أَوْ نَجِدُ فِي الْكُتُبِ أَنَّهُ :" مَا آتَى اللَّهُ سًبْحَانَه عَبْدًا عِلْمًا فَعَمِلَ بِهِ عَلَى سَبِيلِ الْهُدَى، فَيَسْلُبَهُ عَقْلَهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ "
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Ibn Munabbih (may Allah have mercy upon him) who said regarding al-Hasan: We talk about — or find in the books — that Allah the Glorious has never given a servant knowledge and he acted upon it on the path of guidance, except that He never takes away his intellect until He takes him to Himself.
الترجمة الأردية
حضرت ابن منبہ رحمۃ اللہ علیہ سے حضرت حسن کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا: ہم بات کرتے ہیں — یا کتابوں میں پاتے ہیں — کہ اللہ سبحانہ نے کبھی کسی بندے کو علم عطا نہیں فرمایا اور اس نے ہدایت کے راستے پر اس پر عمل کیا، اور پھر اللہ نے اس کی عقل چھین لی ہو، بلکہ اللہ اسے اپنے پاس بلا لیتا ہے (عقل سلامت رکھتے ہوئے)۔
