العربية (الأصل)
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ابْنِ إِسْحَاق ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : رَجَعَ إِلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ مِنْ الْبَقِيعِ ، فَوَجَدَنِي وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا وَأَنَا أَقُولُ : وَا رَأْسَاهُ !، قَالَ :" بَلْ أَنَا يَا عَائِشَةُ وَا رَأْسَاهُ "، قَالَ : " وَمَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ وَصَلَّيْتُ عَلَيْكِ وَدَفَنْتُكِ؟ "، فَقُلْتُ : لَكَأَنّنِي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتُ ذَلِكَ لَرَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ، قَالَتْ : " فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ بُدِئَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ "
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Aishah (may Allah be well pleased with her) narrated: 'The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) returned to me one day from a funeral at al-Baqi and found me with a headache. I was saying: O my head! He stated: "Rather it is I, O Aishah, O my head!" Then he stated: "What harm would it do you if you died before me, and I washed you, shrouded you, prayed over you, and buried you?" I said: By Allah, I can just see it — if you did that, you would return to my house and celebrate your wedding with one of your other wives in it! She said: The Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) smiled. Then his final illness began.'
الترجمة الأردية
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بیان کیا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک دن بقیع سے جنازے سے واپس آئے تو مجھے سردرد ہو رہا تھا اور میں کہہ رہی تھی: ہائے میرا سر! آپ نے فرمایا: بلکہ میں ہوں اے عائشہ! ہائے میرا سر! پھر فرمایا: تمہیں کیا نقصان ہے اگر تم مجھ سے پہلے مر جاؤ تو میں تمہیں غسل دوں، کفن دوں، نماز پڑھوں اور دفن کروں؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو لگتا ہے اگر آپ ایسا کریں تو میرے گھر واپس آ کر اپنی کسی اور بیوی سے شادی کا جشن منائیں گے! عائشہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مسکرائے۔ پھر آپ کی وہ بیماری شروع ہوئی جس میں آپ کا وصال ہوا۔
