العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ، يُحَدِّثُ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم اتَّخَذَ حُجْرَةً فِي الْمَسْجِدِ مِنْ حَصِيرٍ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِيهَا لَيَالِيَ، حَتَّى اجْتَمَعَ إِلَيْهِ نَاسٌ، ثُمَّ فَقَدُوا صَوْتَهُ لَيْلَةً فَظَنُّوا أَنَّهُ قَدْ نَامَ، فَجَعَلَ بَعْضُهُمْ يَتَنَحْنَحُ لِيَخْرُجَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ " مَا زَالَ بِكُمُ الَّذِي رَأَيْتُ مِنْ صَنِيعِكُمْ، حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيْكُمْ، وَلَوْ كُتِبَ عَلَيْكُمْ مَا قُمْتُمْ بِهِ فَصَلُّوا أَيُّهَا النَّاسُ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ أَفْضَلَ صَلاَةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ، إِلاَّ الصَّلاَةَ الْمَكْتُوبَةَ ".
الترجمة الإنجليزية
Ishaq bin Mansur narrated to us, he said Affan bin Muslim informed us, he said Wuhayb narrated to us, he said Musa bin Uqbah narrated to us, he said I heard Abu al-Nadr narrating from Busr bin Sa'id, from Hadrat Zayd bin Thabit (may Allah be well pleased with him), who said: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) set up a small chamber with a mat in the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)'s Mosque and offered prayer therein for several nights during Ramadan, until people gathered behind him. Then one night they did not hear his voice and thought he was resting, so some of them began to cough so that he might come out to them. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared: "I have been observing your conduct, until I feared that this prayer (Tarawih) might be made obligatory upon you. And if it were made obligatory, you would not be able to maintain it. Therefore, O people! Pray in your homes, for indeed the best prayer of a person, besides the obligatory prayer, is that which is offered in his home."
الترجمة الأردية
ہم سے اسحاق بن منصور نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عفان بن مسلم نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے وہیب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا میں نے ابوالنضر سے سنا، انہوں نے بسر بن سعید سے بیان کیا، ان سے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مسجد نبوی شریف میں چٹائی سے گھیر کر ایک حجرہ بنایا اور رمضان المبارک کی چند راتوں میں اس میں نماز ادا فرمائی، یہاں تک کہ لوگ بھی جمع ہو گئے۔ پھر ایک رات لوگوں نے آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی آواز نہ سنی تو سمجھے کہ آپ آرام فرما رہے ہیں۔ بعض لوگ کھنگارنے لگے تاکہ آپ باہر تشریف لائیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "تم لوگوں کا یہی عمل مسلسل دیکھتا رہا ہوں، یہاں تک کہ مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں یہ نماز (تراویح) تم پر فرض نہ کر دی جائے۔ اور اگر فرض کر دی جاتی تو تم اسے قائم نہ رکھ سکتے۔ پس اے لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھو، کیونکہ فرض نماز کے سوا انسان کی سب سے افضل نماز اس کے گھر میں ہوتی ہے۔"
