صحيح البخاريHolding Fast to the Qur'an and Sunnah#7281صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ـ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ـ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، حَدَّثَنَا أَوْ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَتْ مَلاَئِكَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ نَائِمٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ. فَقَالُوا إِنَّ لِصَاحِبِكُمْ هَذَا مَثَلاً فَاضْرِبُوا لَهُ مَثَلاً. فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ. فَقَالُوا مَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا، وَجَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً وَبَعَثَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الْمَأْدُبَةِ. فَقَالُوا أَوِّلُوهَا لَهُ يَفْقَهْهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ. فَقَالُوا فَالدَّارُ الْجَنَّةُ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَى مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ. تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ جَابِرٍ، خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
الترجمة الإنجليزية
Muhammad bin Ubadah narrated to us, he said Yazid bin Harun informed us, he said Salim bin Hayyan narrated to us (and Yazid praised him), he said Sa'id bin Mina' narrated to us, he said I heard Hadrat Jabir bin Abdullah (may Allah be well pleased with them both) say: Angels came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while he was resting. One of them said, "He is resting." Another said, "His blessed eyes are resting but his noble heart is awake." They then said, "There is a parable for this companion of yours, so relate the parable for him." One said, "He is resting." Another said, "His eyes are resting but his heart is awake." They said, "His parable is like a man who built a house and prepared a banquet therein and sent an inviter. Whoever accepted the invitation of the inviter entered the house and ate from the banquet, and whoever did not accept the invitation neither entered the house nor ate from the banquet." Then they said, "Interpret it for him so that he may understand." Some said, "He is resting." Others said, "His eyes are resting but his heart is awake." Then the angels said, "The house is Paradise, and the inviter is Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him). Whoever obeys Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) has obeyed Allah, and whoever disobeys Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) has disobeyed Allah. And Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) is the one who distinguishes between people." Qutaybah also narrated this from Layth, from Khalid, from Sa'id bin Abi Hilal, from Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him), who said: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came out to us.
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں یزید بن ہارون نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا (اور یزید نے ان کی تعریف کی)، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان فرمایا: فرشتے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آرام فرما رہے تھے۔ ایک فرشتے نے کہا: یہ آرام فرما رہے ہیں۔ دوسرے نے کہا: ان کی آنکھیں آرام فرما رہی ہیں لیکن ان کا قلب مبارک بیدار ہے۔ پھر انہوں نے کہا: تمہارے ان صاحب کی ایک مثال ہے تو ان کی مثال بیان کرو۔ ایک نے کہا: یہ آرام فرما رہے ہیں۔ دوسرے نے کہا: آنکھ آرام فرما رہی ہے لیکن قلب بیدار ہے۔ انہوں نے کہا: ان کی مثال ایسے شخص کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اس میں دسترخوان سجایا اور دعوت دینے والا بھیجا، پس جس نے دعوت قبول کی وہ گھر میں داخل ہوا اور دسترخوان سے کھایا، اور جس نے دعوت قبول نہ کی وہ نہ گھر میں داخل ہوا نہ دسترخوان سے کھایا۔ پھر انہوں نے کہا: اس کی تعبیر بیان کرو تاکہ یہ سمجھ جائیں۔ بعض نے کہا: یہ آرام فرما رہے ہیں۔ بعض نے کہا: آنکھیں آرام فرما رہی ہیں لیکن دل بیدار ہے۔ پھر فرشتوں نے کہا: وہ گھر جنت ہے اور دعوت دینے والے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس جس نے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔ اس کی متابعت قتیبہ نے لیث سے، انہوں نے خالد سے، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (1)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
مشكاة المصابيح
عَن جَابر بن عبد الله يَقُول جَاءَتْ مَلَائِكَةٌ إِلَى ا��نَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَائِم فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَ…
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَادَةَ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، حَدَّثَنَا سَلِيمُ بْنُ حَيَّانَ ـ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ـ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، حَدَّثَنَا أَوْ، سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ جَاءَتْ مَلاَئِكَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَهْوَ نَائِمٌ فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ. فَقَالُوا إِنَّ لِصَاحِبِكُمْ هَذَا مَثَلاً فَاضْرِبُوا لَهُ مَثَلاً. فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ. فَقَالُوا مَثَلُهُ كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنَى دَارًا، وَجَعَلَ فِيهَا مَأْدُبَةً وَبَعَثَ دَاعِيًا، فَمَنْ أَجَابَ الدَّاعِيَ دَخَلَ الدَّارَ وَأَكَلَ مِنَ الْمَأْدُبَةِ، وَمَنْ لَمْ يُجِبِ الدَّاعِيَ لَمْ يَدْخُلِ الدَّارَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنَ الْمَأْدُبَةِ. فَقَالُوا أَوِّلُوهَا لَهُ يَفْقَهْهَا فَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّهُ نَائِمٌ. وَقَالَ بَعْضُهُمْ إِنَّ الْعَيْنَ نَائِمَةٌ وَالْقَلْبَ يَقْظَانُ. فَقَالُوا فَالدَّارُ الْجَنَّةُ، وَالدَّاعِي مُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم فَمَنْ أَطَاعَ مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ، وَمَنْ عَصَى مُحَمَّدًا صلى الله عليه وسلم فَقَدْ عَصَى اللَّهَ، وَمُحَمَّدٌ صلى الله عليه وسلم فَرْقٌ بَيْنَ النَّاسِ. تَابَعَهُ قُتَيْبَةُ عَنْ لَيْثٍ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ جَابِرٍ، خَرَجَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم.
Muhammad bin Ubadah narrated to us, he said Yazid bin Harun informed us, he said Salim bin Hayyan narrated to us (and Yazid praised him), he said Sa'id bin Mina' narrated to us, he said I heard Hadrat Jabir bin Abdullah (may Allah be well pleased with them both) say: Angels came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) while he was resting. One of them said, "He is resting." Another said, "His blessed eyes are resting but his noble heart is awake." They then said, "There is a parable for this companion of yours, so relate the parable for him." One said, "He is resting." Another said, "His eyes are resting but his heart is awake." They said, "His parable is like a man who built a house and prepared a banquet therein and sent an inviter. Whoever accepted the invitation of the inviter entered the house and ate from the banquet, and whoever did not accept the invitation neither entered the house nor ate from the banquet." Then they said, "Interpret it for him so that he may understand." Some said, "He is resting." Others said, "His eyes are resting but his heart is awake." Then the angels said, "The house is Paradise, and the inviter is Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him). Whoever obeys Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) has obeyed Allah, and whoever disobeys Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) has disobeyed Allah. And Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him) is the one who distinguishes between people." Qutaybah also narrated this from Layth, from Khalid, from Sa'id bin Abi Hilal, from Hadrat Jabir (may Allah be well pleased with him), who said: The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came out to us.
ہم سے محمد بن عبادہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں یزید بن ہارون نے خبر دی، انہوں نے کہا ہم سے سلیم بن حیان نے بیان کیا (اور یزید نے ان کی تعریف کی)، انہوں نے کہا ہم سے سعید بن میناء نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے سنا، انہوں نے بیان فرمایا: فرشتے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جبکہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم آرام فرما رہے تھے۔ ایک فرشتے نے کہا: یہ آرام فرما رہے ہیں۔ دوسرے نے کہا: ان کی آنکھیں آرام فرما رہی ہیں لیکن ان کا قلب مبارک بیدار ہے۔ پھر انہوں نے کہا: تمہارے ان صاحب کی ایک مثال ہے تو ان کی مثال بیان کرو۔ ایک نے کہا: یہ آرام فرما رہے ہیں۔ دوسرے نے کہا: آنکھ آرام فرما رہی ہے لیکن قلب بیدار ہے۔ انہوں نے کہا: ان کی مثال ایسے شخص کی ہے جس نے ایک گھر بنایا اور اس میں دسترخوان سجایا اور دعوت دینے والا بھیجا، پس جس نے دعوت قبول کی وہ گھر میں داخل ہوا اور دسترخوان سے کھایا، اور جس نے دعوت قبول نہ کی وہ نہ گھر میں داخل ہوا نہ دسترخوان سے کھایا۔ پھر انہوں نے کہا: اس کی تعبیر بیان کرو تاکہ یہ سمجھ جائیں۔ بعض نے کہا: یہ آرام فرما رہے ہیں۔ بعض نے کہا: آنکھیں آرام فرما رہی ہیں لیکن دل بیدار ہے۔ پھر فرشتوں نے کہا: وہ گھر جنت ہے اور دعوت دینے والے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہیں، پس جس نے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جس نے محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ اور محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔ اس کی متابعت قتیبہ نے لیث سے، انہوں نے خالد سے، انہوں نے سعید بن ابی ہلال سے، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔