حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ، قَالَ فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلاً، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ فَخَرَجُوا إِلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ. قَالَ فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) narrates that whenever the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went out with us to fight against a people, he would not attack until the morning came. He would observe: if he heard the Adhan, he would refrain from attacking, and if he did not hear the Adhan, he would launch the attack. We set out towards Khaybar and reached there at night. When morning came and no Adhan was heard, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) mounted and I rode behind Hadrat Abu Hadrat Talha (may Allah be well pleased with him), and my feet were touching the blessed feet of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). The people of Khaybar came out with their baskets and spades (heading to their fields). When they saw the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), they cried out: 'Muhammad! By Allah, Muhammad and his entire army!' When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saw them, he declared: 'Allahu Akbar! Allahu Akbar! Khaybar is destroyed! Indeed, when we descend upon the grounds of a people, evil is the morning of those who had been warned.'
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب ہمیں ساتھ لے کر کسی قوم سے جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو فوراً حملہ نہ فرماتے بلکہ صبح ہونے تک انتظار فرماتے اور دیکھتے: اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملے سے رک جاتے اور اگر اذان نہ سنائی دیتی تو حملہ فرماتے۔ پھر ہم خیبر کی طرف نکلے اور رات کو وہاں پہنچے، صبح ہوئی اور اذان نہ سنائی دی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے سوار ہوا اور میرے قدم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک سے چھو رہے تھے۔ خیبر کے لوگ اپنے ٹوکرے اور کدالیں لیے باہر نکلے (اپنے کھیتوں کو جاتے ہوئے)، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو پکار اٹھے: محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)! بخدا محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) پوری فوج سمیت آ گئے! جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ارشاد فرمایا: اللہ اکبر! اللہ اکبر! خیبر تباہ ہوا! بیشک جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (15)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدٍ، سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ يَقُولُ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى…
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ فَجَاءَهَا لَيْلاً، وَك…
صحيح البخاري
أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ الْفَضْلِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَبَّحْنَا خَي…
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم أَتَى خَيْبَرَ لَيْلاً، و…
حَدَّثَنَا الأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم حِينَ خَرَجَ إِلَى خَيْبَرَ أَتَا…
سنن النسائي
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ صَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم خَي…
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم كَانَ إِذَا غَزَا بِنَا قَوْمًا لَمْ يَكُنْ يَغْزُو بِنَا حَتَّى يُصْبِحَ وَيَنْظُرَ، فَإِنْ سَمِعَ أَذَانًا كَفَّ عَنْهُمْ، وَإِنْ لَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا أَغَارَ عَلَيْهِمْ، قَالَ فَخَرَجْنَا إِلَى خَيْبَرَ فَانْتَهَيْنَا إِلَيْهِمْ لَيْلاً، فَلَمَّا أَصْبَحَ وَلَمْ يَسْمَعْ أَذَانًا رَكِبَ وَرَكِبْتُ خَلْفَ أَبِي طَلْحَةَ، وَإِنَّ قَدَمِي لَتَمَسُّ قَدَمَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم. قَالَ فَخَرَجُوا إِلَيْنَا بِمَكَاتِلِهِمْ وَمَسَاحِيهِمْ فَلَمَّا رَأَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالُوا مُحَمَّدٌ وَاللَّهِ، مُحَمَّدٌ وَالْخَمِيسُ. قَالَ فَلَمَّا رَآهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ " اللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ، خَرِبَتْ خَيْبَرُ، إِنَّا إِذَا نَزَلْنَا بِسَاحَةِ قَوْمٍ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ ".
Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) narrates that whenever the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went out with us to fight against a people, he would not attack until the morning came. He would observe: if he heard the Adhan, he would refrain from attacking, and if he did not hear the Adhan, he would launch the attack. We set out towards Khaybar and reached there at night. When morning came and no Adhan was heard, the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) mounted and I rode behind Hadrat Abu Hadrat Talha (may Allah be well pleased with him), and my feet were touching the blessed feet of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). The people of Khaybar came out with their baskets and spades (heading to their fields). When they saw the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), they cried out: 'Muhammad! By Allah, Muhammad and his entire army!' When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saw them, he declared: 'Allahu Akbar! Allahu Akbar! Khaybar is destroyed! Indeed, when we descend upon the grounds of a people, evil is the morning of those who had been warned.'
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم جب ہمیں ساتھ لے کر کسی قوم سے جہاد کے لیے تشریف لے جاتے تو فوراً حملہ نہ فرماتے بلکہ صبح ہونے تک انتظار فرماتے اور دیکھتے: اگر اذان کی آواز سن لیتے تو حملے سے رک جاتے اور اگر اذان نہ سنائی دیتی تو حملہ فرماتے۔ پھر ہم خیبر کی طرف نکلے اور رات کو وہاں پہنچے، صبح ہوئی اور اذان نہ سنائی دی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سوار ہوئے اور میں حضرت ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پیچھے سوار ہوا اور میرے قدم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے قدم مبارک سے چھو رہے تھے۔ خیبر کے لوگ اپنے ٹوکرے اور کدالیں لیے باہر نکلے (اپنے کھیتوں کو جاتے ہوئے)، جب انہوں نے نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو پکار اٹھے: محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم)! بخدا محمد (صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) پوری فوج سمیت آ گئے! جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں دیکھا تو ارشاد فرمایا: اللہ اکبر! اللہ اکبر! خیبر تباہ ہوا! بیشک جب ہم کسی قوم کے میدان میں اترتے ہیں تو ڈرائے ہوئے لوگوں کی صبح بری ہوتی ہے۔