العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا خَلاَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ، عَنِ الْحَسَنِ ـ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ـ عَنْ صَفِيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنَ الأَنْصَارِ زَوَّجَتِ ابْنَتَهَا فَتَمَعَّطَ شَعَرُ رَأْسِهَا، فَجَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَتْ إِنَّ زَوْجَهَا أَمَرَنِي أَنْ أَصِلَ فِي شَعَرِهَا. فَقَالَ " لاَ إِنَّهُ قَدْ لُعِنَ الْمُوصِلاَتُ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat `Hadrat Aisha that An Ansari woman gave her daughter in marriage and the hair of the latter started falling out. The Ansari women came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned that to him and said, "Her (my daughter's) husband suggested that I should let her wear false hair." the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "No, (don't do that) for Allah sends His curses upon such ladies who lengthen their hair artificially
الترجمة الأردية
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے ابراہیم بن نافع نے، ان سے حسن نے وہ مسلم کے صاحبزادے ہیں، ان سے صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے، ان سے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہ قبیلہ انصار کی ایک خاتون نے اپنی بیٹی کی شادی کی تھی۔ اس کے بعد لڑکی کے سر کے بال بیماری کی وجہ سے اڑ گئے تو وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے اس کا ذکر کیا اور کہا کہ اس کے شوہر نے اس سے کہا ہے کہ اپنے بالوں کے ساتھ ( دوسرے مصنوعی بال ) جوڑے۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اس پر فرمایا کہ ایسا تو ہرگز مت کر کیونکہ مصنوعی بال سر پر رکھ کے جو جوڑے تو ایسے بال جوڑنے والیوں پر لعنت کی گئی ہے۔
