العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ كُنَّا نَتَّقِي الْكَلاَمَ وَالاِنْبِسَاطَ إِلَى نِسَائِنَا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم هَيْبَةَ أَنْ يُنْزَلَ فِينَا شَىْءٌ فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم تَكَلَّمْنَا وَانْبَسَطْنَا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn `Umar that during the lifetime of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) we used to avoid chatting leisurely and freely with our wives lest some Divine inspiration might be revealed concerning us. But when the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) had departed this world, we started chatting leisurely and freely (with them)
الترجمة الأردية
ہم سے حضرت ابونعیم نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان ثوری نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے اور ان سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے وقت میں ہم اپنی بیویوں کے ساتھ گفتگو اور بہت زیادہ بےتکلفی سے اس ڈر کی وجہ سے پرہیز کرتے تھے کہ کہیں کوئی بےاعتدالی ہو جائے اور ہماری برائی میں کوئی حکم نازل نہ ہو جائے۔ پھر جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہو گئی تو ہم نے ان سے خوب کھل کے گفتگو کی اور خوب بےتکلفی کرنے لگے۔
