العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ أَخْبَرَنِي مَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ، قَالَ أَصَابَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رُعَافٌ شَدِيدٌ سَنَةَ الرُّعَافِ، حَتَّى حَبَسَهُ عَنِ الْحَجِّ وَأَوْصَى، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ قَالَ اسْتَخْلِفْ. قَالَ وَقَالُوهُ قَالَ نَعَمْ. قَالَ وَمَنْ فَسَكَتَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ آخَرُ ـ أَحْسِبُهُ الْحَارِثَ ـ فَقَالَ اسْتَخْلِفْ. فَقَالَ عُثْمَانُ وَقَالُوا فَقَالَ نَعَمْ. قَالَ وَمَنْ هُوَ فَسَكَتَ قَالَ فَلَعَلَّهُمْ قَالُوا الزُّبَيْرَ قَالَ نَعَمْ. قَالَ أَمَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَخَيْرُهُمْ مَا عَلِمْتُ، وَإِنْ كَانَ لأَحَبَّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Marwan bin Al-Hakam that `Hadrat Uthman bin `Affan was afflicted with severe nose-bleeding in the year when such illness was prevelant and that prevented him from performing Hajj, and (because of it) he made his will. A man from Quraish came to him and said, "Appoint your successor." Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) asked, "Did the people name him? (i.e. the successor) the man said, "Yes." Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) asked, "Who is that?" The man remained silent. Another man came to Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) and I think it was Al-Harith. He also said, "Appoint your successor." Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) asked, "Did the people name him?" The man replied "Yes." Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) said, "Who is that?" The man remained silent. Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) said, "Perhaps they have mentioned Az-Zubair?" The man said, "Yes." Hadrat Uthman (may Allah be well pleased with him) said, "By Him in Whose Hands my life is, he is the best of them as I know, and the dearest of them to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)
الترجمة الأردية
ہم سے خالد بن مخلد نے بیان کیا، کہا ہم سے علی بن مسہر نے، ان سے ہشام بن عروہ نے، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ مجھے مروان بن حکم نے خبر دی کہ جس سال نکسیر پھوٹنے کی بیماری پھوٹ پڑی تھی اس سال حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اتنی سخت نکسیر پھوٹی کہ آپ حج کے لیے بھی نہ جا سکے، اور ( زندگی سے مایوس ہو کر ) وصیت بھی کر دی، پھر ان کی خدمت میں قریش کے ایک صاحب گئے اور کہا کہ آپ کسی کو اپنا خلیفہ بنا دیں۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دریافت فرمایا: کیا یہ سب کی خواہش ہے، انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ نے پوچھا کہ کسے بناؤں؟ اس پر وہ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد ایک دوسرے صاحب گئے۔ میرا خیال ہے کہ وہ حارث تھے،۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ آپ کسی کو خلیفہ بنا دیں، آپ نے ان سے بھی پوچھا کیا یہ سب کی خواہش ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، آپ نے پوچھا: لوگوں کی رائے کس کے لیے ہے؟ اس پر وہ بھی خاموش ہو گئے، تو آپ نے خود فرمایا: غالباً حضرت زبیر کی طرف لوگوں کا رجحان ہے؟ انہوں نے کہا جی ہاں، پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میرے علم کے مطابق بھی وہی ان میں سب سے بہتر ہیں اور بلاشبہ وہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی نظروں میں بھی ان میں سب سے زیادہ محبوب تھے۔
