العربية (الأصل)
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا صَخْرٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " بَيْنَمَا أَنَا عَلَى بِئْرٍ أَنْزِعُ مِنْهَا جَاءَنِي أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَأَخَذَ أَبُو بَكْرٍ الدَّلْوَ، فَنَزَعَ ذَنُوبًا أَوْ ذَنُوبَيْنِ وَفِي نَزْعِهِ ضَعْفٌ، وَاللَّهُ يَغْفِرُ لَهُ، ثُمَّ أَخَذَهَا ابْنُ الْخَطَّابِ مِنْ يَدِ أَبِي بَكْرٍ، فَاسْتَحَالَتْ فِي يَدِهِ غَرْبًا، فَلَمْ أَرَ عَبْقَرِيًّا مِنَ النَّاسِ يَفْرِي فَرِيَّهُ، فَنَزَعَ حَتَّى ضَرَبَ النَّاسُ بِعَطَنٍ ". قَالَ وَهْبٌ الْعَطَنُ مَبْرَكُ الإِبِلِ، يَقُولُ حَتَّى رَوِيَتِ الإِبِلُ فَأَنَاخَتْ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat `Abdullah bin `Umar that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated. "While (in a dream), I was standing by a well, drawing water from it. Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) and `Umar came to me. Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him) took the bucket (from me) and drew one or two buckets of water, and there was some weakness in his drawing. May Allah forgive him. Then Ibn Al-Khattab took the bucket from Hadrat Abu Bakr al-Siddiq (may Allah be well pleased with him), and the bucket turned into a very large one in his hands. I had never seen such a mighty person amongst the people as him in performing such hard work. He drew so much water that the people drank to their satisfaction and watered their camels." (Wahab, a sub-narrator said, "till their camels drank and knelt down)
الترجمة الأردية
مجھ سے ابوعبداللہ احمد بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے وہب بن جریر نے بیان کیا، کہا ہم سے صخر نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں ایک کنویں پر ( خواب میں ) کھڑا اس سے پانی کھینچ رہا تھا کہ میرے پاس حضرت ابوبکر اور عمر بھی پہنچ گئے۔ پھر حضرت ابوبکر نے ڈول لے لیا اور ایک یا دو ڈول کھینچے، ان کے کھینچنے میں ضعف تھا اور اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت کرے گا۔ پھر حضرت ابوبکر کے ہاتھ سے ڈول عمر نے لے لیا اور ان کے ہاتھ میں پہنچتے ہی وہ ایک بہت بڑے ڈول کی شکل میں ہو گیا۔ میں نے کوئی ہمت والا اور بہادر انسان نہیں دیکھا جو اتنی حسن تدبیر اور مضبوط قوت کے ساتھ کام کرنے کا عادی ہو، چنانچہ انہوں نے اتنا پانی کھینچا کہ لوگوں نے اونٹوں کے پانی پلانے کی جگہیں بھر لیں، وہب نے بیان کیا کہ «العطن» اونٹوں کے بیٹھنے کی جگہ کو فرماتے ہیں، عرب لوگ بولتے ہیں، اونٹ سیراب ہوئے کہ ( وہیں ) بیٹھ گئے۔
