العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ذَرٍّ، ح قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عُمَرَ بْنِ ذَرٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ـ رضى الله عنهما ـ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم لِجِبْرِيلَ " أَلاَ تَزُورُنَا أَكْثَرَ مِمَّا تَزُورُنَا " قَالَ فَنَزَلَتْ {وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلاَّ بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا} الآيَةَ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat 'Abdullah bin 'Abbas (may Allah be well pleased with them both) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated to Jibril (upon him be peace): Why do you not visit us more often than you do? Thereupon the following verse was revealed: 'And we do not descend except by the command of your Lord. To Him belongs what is before us and what is behind us.' (Surah Maryam: 64)
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے ارشاد فرمایا: آپ جتنی مرتبہ ہمارے پاس تشریف لاتے ہیں اس سے زیادہ کیوں نہیں تشریف لاتے؟ (راوی نے) فرمایا: اس پر یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی: «وَمَا نَتَنَزَّلُ إِلَّا بِأَمْرِ رَبِّكَ لَهُ مَا بَيْنَ أَيْدِينَا وَمَا خَلْفَنَا» یعنی ہم نہیں اترتے مگر تیرے رب کے حکم سے، اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے ہے۔ (سورۃ مریم: ۶۴)
