العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي سَفَرٍ فَكَانَ عَلَى بَكْرٍ لِعُمَرَ صَعْبٍ، فَكَانَ يَتَقَدَّمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَيَقُولُ أَبُوهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لاَ يَتَقَدَّمِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم أَحَدٌ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " بِعْنِيهِ ". فَقَالَ عُمَرُ هُوَ لَكَ. فَاشْتَرَاهُ ثُمَّ قَالَ " هُوَ لَكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، فَاصْنَعْ بِهِ مَا شِئْتَ ".
الترجمة الإنجليزية
Narrated to us by Abdullah bin Muhammad, narrated to us by Ibn Uyaynah, from Amr, from Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both), that he was with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) on a journey, riding a difficult young camel belonging to Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him). The camel would go ahead of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). His father, Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him), would say, 'O Hadrat Abdullah! No one should go ahead of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him).' Then the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated to Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him), 'Sell it to me.' Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) submitted, 'It is yours.' He (blessings and peace of Allah be upon him) bought it, then declared, 'It is yours, O Hadrat Abdullah! Do with it as you wish.'
الترجمة الأردية
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، عمرو سے، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایک سرکش جوان اونٹ پر سوار تھے۔ وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے آگے نکل جاتا تھا۔ ان کے والد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے: عبداللہ! نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے آگے کوئی نہ بڑھے۔ تو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا: یہ اونٹ مجھے بیچ دو۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یہ آپ کا ہے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اسے خریدا، پھر ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! یہ تمہارا ہے، اس کے ساتھ جو چاہو کرو۔
