حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلاً، فَعَجِلَ الْقَوْمُ، فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ، ثُمَّ إِنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلاَّ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بِسَهْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ". قَالَ قَالَ جَدِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْجُو ـ أَوْ نَخَافُ ـ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، فَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ فَقَالَ " اعْجَلْ أَوْ أَرْنِي، مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوا، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Rafi' bin Khadij (may Allah be well pleased with him) who said: We were with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at Dhul-Hulaifa in Tihama. We obtained sheep and camels (from the spoils). Some people hastened and slaughtered the animals (before distribution) and set up their cooking pots. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came and ordered the pots to be overturned. He then distributed the spoils, equating ten sheep to one camel. One camel escaped and there were only a few horses among the people. A man shot an arrow at it and stopped it. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'These animals have wild tendencies like wild beasts. Whatever escapes from your control, deal with it in this manner.' Abaya said: My grandfather submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! We fear that we may encounter the enemy tomorrow and we have no knives. May we slaughter with reeds?' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Hasten - whatever causes the blood to flow and the Name of Allah is mentioned over it, eat of it - except teeth and fingernails. I shall tell you why: teeth are bones, and fingernails are the knives of the Ethiopians.'
الترجمة الأردية
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں تھے۔ (غنیمت میں) ہمیں بکریاں اور اونٹ ملے۔ بعض لوگوں نے جلدی کی اور (تقسیم سے پہلے) جانور ذبح کر کے ہانڈیاں چڑھا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے حکم سے ہانڈیاں اوندھا دی گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھ کر تقسیم فرمایا۔ ایک اونٹ بھاگ گیا اور قوم کے پاس گھوڑے بھی کم تھے۔ ایک شخص نے تیر مار کر اسے روک لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں جیسی وحشت ہوتی ہے۔ جو تمہارے قابو سے نکل جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ عبایہ نے کہا: میرے دادا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں اندیشہ ہے کہ کل دشمن سے مڈبھیڑ ہو جائے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ کیا ہم بانس سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جلدی کرو — جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو کھاؤ، سوائے دانت اور ناخن کے۔ اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبَايَةَ بْنِ رِفَاعَةَ، عَنْ جَدِّهِ، رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِذِي الْحُلَيْفَةِ مِنْ تِهَامَةَ، فَأَصَبْنَا غَنَمًا وَإِبِلاً، فَعَجِلَ الْقَوْمُ، فَأَغْلَوْا بِهَا الْقُدُورَ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَأَمَرَ بِهَا فَأُكْفِئَتْ، ثُمَّ عَدَلَ عَشْرًا مِنَ الْغَنَمِ بِجَزُورٍ، ثُمَّ إِنَّ بَعِيرًا نَدَّ وَلَيْسَ فِي الْقَوْمِ إِلاَّ خَيْلٌ يَسِيرَةٌ فَرَمَاهُ رَجُلٌ فَحَبَسَهُ بِسَهْمٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ لِهَذِهِ الْبَهَائِمِ أَوَابِدَ كَأَوَابِدِ الْوَحْشِ، فَمَا غَلَبَكُمْ مِنْهَا فَاصْنَعُوا بِهِ هَكَذَا ". قَالَ قَالَ جَدِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرْجُو ـ أَوْ نَخَافُ ـ أَنْ نَلْقَى الْعَدُوَّ غَدًا وَلَيْسَ مَعَنَا مُدًى، فَنَذْبَحُ بِالْقَصَبِ فَقَالَ " اعْجَلْ أَوْ أَرْنِي، مَا أَنْهَرَ الدَّمَ وَذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَكُلُوا، لَيْسَ السِّنَّ وَالظُّفُرَ، وَسَأُحَدِّثُكُمْ عَنْ ذَلِكَ، أَمَّا السِّنُّ فَعَظْمٌ، وَأَمَّا الظُّفُرُ فَمُدَى الْحَبَشَةِ ".
It is narrated by Hadrat Rafi' bin Khadij (may Allah be well pleased with him) who said: We were with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) at Dhul-Hulaifa in Tihama. We obtained sheep and camels (from the spoils). Some people hastened and slaughtered the animals (before distribution) and set up their cooking pots. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) came and ordered the pots to be overturned. He then distributed the spoils, equating ten sheep to one camel. One camel escaped and there were only a few horses among the people. A man shot an arrow at it and stopped it. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'These animals have wild tendencies like wild beasts. Whatever escapes from your control, deal with it in this manner.' Abaya said: My grandfather submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! We fear that we may encounter the enemy tomorrow and we have no knives. May we slaughter with reeds?' He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Hasten - whatever causes the blood to flow and the Name of Allah is mentioned over it, eat of it - except teeth and fingernails. I shall tell you why: teeth are bones, and fingernails are the knives of the Ethiopians.'
حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ہم نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تہامہ کے مقام ذوالحلیفہ میں تھے۔ (غنیمت میں) ہمیں بکریاں اور اونٹ ملے۔ بعض لوگوں نے جلدی کی اور (تقسیم سے پہلے) جانور ذبح کر کے ہانڈیاں چڑھا دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور آپ کے حکم سے ہانڈیاں اوندھا دی گئیں۔ پھر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے دس بکریوں کو ایک اونٹ کے برابر رکھ کر تقسیم فرمایا۔ ایک اونٹ بھاگ گیا اور قوم کے پاس گھوڑے بھی کم تھے۔ ایک شخص نے تیر مار کر اسے روک لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان جانوروں میں بھی جنگلی جانوروں جیسی وحشت ہوتی ہے۔ جو تمہارے قابو سے نکل جائے تو اس کے ساتھ ایسا ہی کرو۔ عبایہ نے کہا: میرے دادا نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں اندیشہ ہے کہ کل دشمن سے مڈبھیڑ ہو جائے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں۔ کیا ہم بانس سے ذبح کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جلدی کرو — جو چیز خون بہا دے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو کھاؤ، سوائے دانت اور ناخن کے۔ اس کی وجہ بتاتا ہوں: دانت ہڈی ہے اور ناخن حبشیوں کی چھریاں ہیں۔