العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ـ رضى الله عنه ـ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنْ بَيْعِ الثِّمَارِ حَتَّى تُزْهِيَ. فَقِيلَ لَهُ وَمَا تُزْهِي قَالَ حَتَّى تَحْمَرَّ. فَقَالَ " أَرَأَيْتَ إِذَا مَنَعَ اللَّهُ الثَّمَرَةَ، بِمَ يَأْخُذُ أَحَدُكُمْ مَالَ أَخِيهِ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Anas bin Malik (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) forbade the sale of fruits until they reached Zahu (ripeness). He was asked: What is Zahu? He replied: Until they turn red. Then the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared: Consider this -- if Allah were to withhold the fruit (i.e., spoil it through some calamity), then on what grounds would any of you take his brother's wealth?
الترجمة الأردية
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پھلوں کو زَہو (پکنے) سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا۔ ان سے پوچھا گیا کہ زَہو کیا ہے؟ فرمایا: سرخ ہو جانا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ذرا بتاؤ، اگر اللہ تعالیٰ پھل کو روک لے (کسی آفت سے خراب کر دے) تو تم میں سے کوئی اپنے بھائی کا مال کس حق سے لے گا؟
