العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى عَنِ الْمُزَابَنَةِ قَالَ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يَبِيعَ الثَّمَرَ بِكَيْلٍ، إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَىَّ. قَالَ وَحَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ibn `Umar that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) forbade Muzabana; and Muzabana is the selling of fresh fruit (without measuring it) for something by measure on the basis that if that thing turns to be more than the fruit, the increase would be for the seller of the fruit, and if it turns to be less, that would be of his lot. Narrated Hadrat Ibn `Umar from Hadrat Zaid bin Thabit that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) allowed the selling of the fruits on the trees after estimation (when they are ripe)
الترجمة الأردية
ہم سے ابوالنعمان نے بیان کیا، ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ایوب سے، نافع سے، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ پھل ماپ کر بیچا جائے، اگر زیادہ ہو تو بیچنے والے کا اور اگر کم ہو تو اس کے ذمے۔ اور انہوں نے فرمایا کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عرایا میں اندازے سے بیچنے کی رخصت دی۔
