صحيح البخاريRetiring to a Mosque for Remembrance of Allah (I'tikaf)#2035صحيح
العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ صَفِيَّةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَهَا يَقْلِبُهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ باب الْمَسْجِدِ عِنْدَ باب أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ ". فَقَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Ali bin al-Husain (may Allah be well pleased with them both) who was informed by Umm al-Mu'minin Hadrat Safiyya (may Allah be well pleased with her), the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), that she went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to visit him in the mosque while he was in I'tikaf in the last ten days of Ramadan. She had a talk with him for a while, then she got up to return home. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) accompanied her to see her off. When they reached the gate of the mosque, opposite the door of Umm al-Mu'minin Hadrat Umm Salama (may Allah be well pleased with her), two Ansari men passed by and greeted the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He (blessings and peace of Allah be upon him) stated to them, "There is no need for any thought; she is (my wife) Umm al-Mu'minin Hadrat Safiyya bint Huyayy (may Allah be well pleased with her)." Both of them submitted, "SubhanAllah, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" And his words greatly affected them. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Satan circulates in the human body as blood circulates in it. I feared lest he might cast some evil suspicion in your hearts."
الترجمة الأردية
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے حضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی، اور انہیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے مسجد میں آئیں تھوڑی دیر تک باتیں کیں پھر واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بھی انہیں پہنچانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ جب وہ حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دروازے سے قریب والے مسجد کے دروازے پر پہنچیں، تو دو انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہما ادھر سے گزرے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی سوچ کی ضرورت نہیں، یہ تو (میری بیوی) حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔ ان دونوں صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کیا، سبحان اللہ! یا رسول اللہ! ان پر آپ کا جملہ بڑا شاق گزرا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شیطان خون کی طرح انسان کے بدن میں دوڑتا رہتا ہے۔ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ أَخْبَرَنِي عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ ـ رضى الله عنهما ـ أَنَّ صَفِيَّةَ، زَوْجَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم تَزُورُهُ فِي اعْتِكَافِهِ فِي الْمَسْجِدِ، فِي الْعَشْرِ الأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ، فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم مَعَهَا يَقْلِبُهَا، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ باب الْمَسْجِدِ عِنْدَ باب أُمِّ سَلَمَةَ مَرَّ رَجُلاَنِ مِنَ الأَنْصَارِ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ لَهُمَا النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " عَلَى رِسْلِكُمَا إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَىٍّ ". فَقَالاَ سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ. وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا. فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّيْطَانَ يَبْلُغُ مِنَ الإِنْسَانِ مَبْلَغَ الدَّمِ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا شَيْئًا ".
It is narrated by Hadrat Ali bin al-Husain (may Allah be well pleased with them both) who was informed by Umm al-Mu'minin Hadrat Safiyya (may Allah be well pleased with her), the wife of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), that she went to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) to visit him in the mosque while he was in I'tikaf in the last ten days of Ramadan. She had a talk with him for a while, then she got up to return home. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) accompanied her to see her off. When they reached the gate of the mosque, opposite the door of Umm al-Mu'minin Hadrat Umm Salama (may Allah be well pleased with her), two Ansari men passed by and greeted the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). He (blessings and peace of Allah be upon him) stated to them, "There is no need for any thought; she is (my wife) Umm al-Mu'minin Hadrat Safiyya bint Huyayy (may Allah be well pleased with her)." Both of them submitted, "SubhanAllah, O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!" And his words greatly affected them. The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated, "Satan circulates in the human body as blood circulates in it. I feared lest he might cast some evil suspicion in your hearts."
ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے بیان کیا کہ مجھے حضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے خبر دی، اور انہیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ مطہرہ حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبر دی کہ وہ رمضان کے آخری عشرہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعتکاف میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے ملنے مسجد میں آئیں تھوڑی دیر تک باتیں کیں پھر واپس ہونے کے لیے کھڑی ہوئیں۔ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم بھی انہیں پہنچانے کے لیے کھڑے ہوئے۔ جب وہ حضرت اُمّ المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے دروازے سے قریب والے مسجد کے دروازے پر پہنچیں، تو دو انصاری صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہما ادھر سے گزرے اور نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو سلام عرض کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی سوچ کی ضرورت نہیں، یہ تو (میری بیوی) حضرت اُمّ المؤمنین صفیہ بنت حیی رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔ ان دونوں صحابیوں رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے عرض کیا، سبحان اللہ! یا رسول اللہ! ان پر آپ کا جملہ بڑا شاق گزرا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ شیطان خون کی طرح انسان کے بدن میں دوڑتا رہتا ہے۔ مجھے خطرہ ہوا کہ کہیں تمہارے دلوں میں وہ کوئی بدگمانی نہ ڈال دے۔