Hadrat Usama bin Zayd (may Allah be well pleased with them both) narrated that he submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Will you stay in your house in Makkah?' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared, 'Has Aqil left any property or house for us?' Aqil along with Talib had inherited the property of Abu Talib. Hadrat Ja'far and Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) did not receive anything in inheritance because they were both Muslims, while Aqil and Talib had not embraced Islam (at that time). On this basis, Hadrat Umar bin al-Khattab (may Allah be well pleased with him) used to state, 'A believer does not inherit from a disbeliever.' Ibn Shihab stated that they derived this ruling from the statement of Allah Most High: 'Verily, those who believed and emigrated and strove with their wealth and lives in the way of Allah, and those who gave shelter and aided — they are allies of one another.'
الترجمة الأردية
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں حضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے، انہیں عمرو بن حضرت عثمان نے اور انہیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ مکہ مکرمہ میں کیا اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے؟ اس پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عقیل نے ہمارے لیے کوئی محلہ یا مکان چھوڑا ہی کب ہے (سب بیچ کر برابر کر دیے)۔ عقیل اور طالب، ابوطالب کے وارث ہوئے تھے۔ حضرت جعفر اور حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو وراثت میں کچھ نہیں ملا تھا کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے اور عقیل و طالب (ابتداء میں) اسلام نہیں لائے تھے۔ اسی بنیاد پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ ابن شہاب نے فرمایا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے دلیل لیتے ہیں کہ "جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہی ایک دوسرے کے ولی ہوں گے۔"
Hadrat Usama bin Zayd (may Allah be well pleased with them both) narrated that he submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! Will you stay in your house in Makkah?' The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) declared, 'Has Aqil left any property or house for us?' Aqil along with Talib had inherited the property of Abu Talib. Hadrat Ja'far and Hadrat Ali (may Allah ennoble his countenance) did not receive anything in inheritance because they were both Muslims, while Aqil and Talib had not embraced Islam (at that time). On this basis, Hadrat Umar bin al-Khattab (may Allah be well pleased with him) used to state, 'A believer does not inherit from a disbeliever.' Ibn Shihab stated that they derived this ruling from the statement of Allah Most High: 'Verily, those who believed and emigrated and strove with their wealth and lives in the way of Allah, and those who gave shelter and aided — they are allies of one another.'
ہم سے اصبغ بن فرج نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھے عبداللہ بن وہب نے خبر دی، انہیں یونس نے، انہیں ابن شہاب نے، انہیں حضرت علی بن حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے، انہیں عمرو بن حضرت عثمان نے اور انہیں حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے بیان کیا کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ مکہ مکرمہ میں کیا اپنے گھر میں قیام فرمائیں گے؟ اس پر آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ عقیل نے ہمارے لیے کوئی محلہ یا مکان چھوڑا ہی کب ہے (سب بیچ کر برابر کر دیے)۔ عقیل اور طالب، ابوطالب کے وارث ہوئے تھے۔ حضرت جعفر اور حضرت علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کو وراثت میں کچھ نہیں ملا تھا کیونکہ یہ دونوں مسلمان تھے اور عقیل و طالب (ابتداء میں) اسلام نہیں لائے تھے۔ اسی بنیاد پر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ ابن شہاب نے فرمایا کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے دلیل لیتے ہیں کہ "جو لوگ ایمان لائے، ہجرت کی اور اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کیا اور وہ لوگ جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی، وہی ایک دوسرے کے ولی ہوں گے۔"