حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ مَعَهُ بِالْمَدِينَةِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، حَمِدَ اللَّهَ وَسَبَّحَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا، حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ قَالَ وَنَحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا، وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَنَسٍ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated by Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) — and we were with him — offered four Rak'at of Zuhr prayer in Madinah and two Rak'at of Asr prayer at Dhul Hulaifa. He spent the night there until morning, then mounted and when he reached al-Baida', he praised Allah, glorified Him, and proclaimed His greatness. Then he assumed Ihram for both Hajj and Umra, and the people did the same (i.e. Hajj Qiran). When we reached Makkah, he ordered the people (those without sacrificial animals) to end their Ihram, until the 8th of Dhul Hijjah (Yawm al-Tarwiyah) when they assumed Ihram for Hajj. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sacrificed several camels with his own blessed hand while standing. And the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) also sacrificed two horned, black and white spotted rams in Madinah (on the day of Eid al-Adha). Abu Hadrat Abdullah (Imam Bukhari, upon him be mercy) said that some narrators report this hadith from Ayyub, from a man, from Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him).
الترجمة الأردية
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے — ہم بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے — مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعت ادا فرمائیں۔ پھر رات وہیں بسر فرمائی یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ پھر سوار ہوئے اور جب بیداء پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی حمد، تسبیح اور تکبیر بیان فرمائی۔ اس کے بعد حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اور لوگوں نے بھی دونوں کا احرام باندھا (یعنی حجِ قران کیا)۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم فرمایا (جن کے ساتھ قربانی نہیں تھی) تو انہوں نے حلال ہو کر احرام کھول دیا۔ یہاں تک کہ آٹھویں ذی الحجہ (یومِ ترویہ) کو انہوں نے حج کا احرام باندھا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے کھڑے ہو کر کئی اونٹ نحر فرمائے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (عیدالاضحی کے دن) مدینہ منورہ میں بھی دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح فرمائے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے فرمایا کہ بعض لوگ اس حدیث کو ایوب سے، وہ ایک شخص سے، وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (5)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ. وَعَنْ أَيُّوبَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ ثُمَّ بَاتَ حَتَّى أَصْبَحَ، فَصَلَّى الصّ…
صحيح البخاري
صَلَّى النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم الظُّهْرَ بِالْمَدِينَةِ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، فَبَاتَ بِهَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ رَكِبَ رَاحِلَتَهُ، فَجَعَلَ يُهَلِّلُ وَيُسَبِّحُ، فَلَمَّا عَلاَ ع…
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلاَبَةَ، عَنْ أَنَسٍ ـ رضى الله عنه ـ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ مَعَهُ بِالْمَدِينَةِ الظُّهْرَ أَرْبَعًا، وَالْعَصْرَ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ بَاتَ بِهَا حَتَّى أَصْبَحَ، ثُمَّ رَكِبَ حَتَّى اسْتَوَتْ بِهِ عَلَى الْبَيْدَاءِ، حَمِدَ اللَّهَ وَسَبَّحَ وَكَبَّرَ، ثُمَّ أَهَلَّ بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ، وَأَهَلَّ النَّاسُ بِهِمَا، فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَ النَّاسَ فَحَلُّوا، حَتَّى كَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ قَالَ وَنَحَرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَدَنَاتٍ بِيَدِهِ قِيَامًا، وَذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بِالْمَدِينَةِ كَبْشَيْنِ أَمْلَحَيْنِ. قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بَعْضُهُمْ هَذَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ رَجُلٍ عَنْ أَنَسٍ.
It is narrated by Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) — and we were with him — offered four Rak'at of Zuhr prayer in Madinah and two Rak'at of Asr prayer at Dhul Hulaifa. He spent the night there until morning, then mounted and when he reached al-Baida', he praised Allah, glorified Him, and proclaimed His greatness. Then he assumed Ihram for both Hajj and Umra, and the people did the same (i.e. Hajj Qiran). When we reached Makkah, he ordered the people (those without sacrificial animals) to end their Ihram, until the 8th of Dhul Hijjah (Yawm al-Tarwiyah) when they assumed Ihram for Hajj. Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him) said that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) sacrificed several camels with his own blessed hand while standing. And the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) also sacrificed two horned, black and white spotted rams in Madinah (on the day of Eid al-Adha). Abu Hadrat Abdullah (Imam Bukhari, upon him be mercy) said that some narrators report this hadith from Ayyub, from a man, from Hadrat Anas (may Allah be well pleased with him).
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب بن خالد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ایوب سختیانی نے بیان کیا، ان سے ابوقلابہ نے اور ان سے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے — ہم بھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے — مدینہ منورہ میں ظہر کی نماز چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعت ادا فرمائیں۔ پھر رات وہیں بسر فرمائی یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ پھر سوار ہوئے اور جب بیداء پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی حمد، تسبیح اور تکبیر بیان فرمائی۔ اس کے بعد حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا اور لوگوں نے بھی دونوں کا احرام باندھا (یعنی حجِ قران کیا)۔ جب ہم مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو حکم فرمایا (جن کے ساتھ قربانی نہیں تھی) تو انہوں نے حلال ہو کر احرام کھول دیا۔ یہاں تک کہ آٹھویں ذی الحجہ (یومِ ترویہ) کو انہوں نے حج کا احرام باندھا۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دستِ مبارک سے کھڑے ہو کر کئی اونٹ نحر فرمائے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے (عیدالاضحی کے دن) مدینہ منورہ میں بھی دو چتکبرے سینگوں والے مینڈھے ذبح فرمائے۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) نے فرمایا کہ بعض لوگ اس حدیث کو ایوب سے، وہ ایک شخص سے، وہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بیان کرتے ہیں۔