حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا جَاءَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَابْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ ـ شَقِّ الْبَابِ ـ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ، وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، لَمْ يُطِعْنَهُ فَقَالَ انْهَهُنَّ. فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ قَالَ وَاللَّهِ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَالَ " فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ ". فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ، لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ تَتْرُكْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْعَنَاءِ.
الترجمة الإنجليزية
Narrated by Umm al-Mu'minin Hadrat ' Aisha as-Siddiqa (may Allah be well pleased with her): When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) received the news of the martyrdom of (Hadrat) Hadrat Zaid bin Haritha, (Hadrat) Ja'far (bin Abi Talib), and (Hadrat) 'Abdullah bin Rawaha (may Allah be well pleased with them) (in the Battle of Mu'tah), he sat down with grief apparent on his blessed face. I was watching through the crack of the door. A man came and mentioned the weeping of the women of (Hadrat) Ja'far's household. He (blessings and peace of Allah be upon him) instructed him, 'Forbid them from weeping.' The man went but came back saying they did not listen. He stated, 'Forbid them.' The man came a third time and submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! By Allah, they have overpowered us!' She (Hadrat ' Aisha) believed that he (blessings and peace of Allah be upon him) then stated, 'Then throw dust in their mouths!' I (Hadrat 'Aisha, may Allah be well pleased with her) said (to that man), 'May Allah rub your nose in the dust! You could neither carry out the command of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) nor did you spare him from trouble.'
الترجمة الأردية
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، فرمایا میں نے یحییٰ سے سنا، انہوں نے فرمایا مجھے عمرہ نے خبر دی، فرمایا کہ میں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا، انہوں نے فرمایا: جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو (حضرت) زید بن حارثہ، (حضرت) جعفر (بن ابی طالب) اور (حضرت) عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شہادت (غزوہ موتہ میں) کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس طرح بیٹھ گئے کہ غم کے آثار آپ کے چہرے پر نمایاں تھے۔ میں دروازے کی درز سے دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور (حضرت) جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی عورتوں کا رونا بیان کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہیں رونے سے منع کر دو۔ وہ شخص گیا لیکن واپس آ کر عرض کیا: عورتوں نے نہیں مانا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: انہیں منع کرو۔ وہ تیسری بار لوٹ کر آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم وہ ہم پر غالب آ گئی ہیں! (حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خیال ہے کہ) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر ان کے منہ میں مٹی ڈال دو! میں (حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے (اس شخص سے) کہا: اللہ تیری ناک خاک میں ملائے! تو نہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا حکم پورا کر سکا اور نہ ہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف سے بچا سکا۔
تخریج الحدیث
یہ حدیث درج ذیل کتب میں بھی آئی ہے (9)
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح البخاري
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ تَقُولُ لَمَّا…
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَى، قَالَ أَخْبَرَتْنِي عَمْرَةُ، قَالَتْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ ـ رضى الله عنها ـ قَالَتْ لَمَّا جَاءَ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَتْلُ ابْنِ حَارِثَةَ وَجَعْفَرٍ وَابْنِ رَوَاحَةَ جَلَسَ يُعْرَفُ فِيهِ الْحُزْنُ، وَأَنَا أَنْظُرُ مِنْ صَائِرِ الْبَابِ ـ شَقِّ الْبَابِ ـ فَأَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ إِنَّ نِسَاءَ جَعْفَرٍ، وَذَكَرَ بُكَاءَهُنَّ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَنْهَاهُنَّ، فَذَهَبَ ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، لَمْ يُطِعْنَهُ فَقَالَ انْهَهُنَّ. فَأَتَاهُ الثَّالِثَةَ قَالَ وَاللَّهِ غَلَبْنَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَالَ " فَاحْثُ فِي أَفْوَاهِهِنَّ التُّرَابَ ". فَقُلْتُ أَرْغَمَ اللَّهُ أَنْفَكَ، لَمْ تَفْعَلْ مَا أَمَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَلَمْ تَتْرُكْ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مِنَ الْعَنَاءِ.
Narrated by Umm al-Mu'minin Hadrat ' Aisha as-Siddiqa (may Allah be well pleased with her): When the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) received the news of the martyrdom of (Hadrat) Hadrat Zaid bin Haritha, (Hadrat) Ja'far (bin Abi Talib), and (Hadrat) 'Abdullah bin Rawaha (may Allah be well pleased with them) (in the Battle of Mu'tah), he sat down with grief apparent on his blessed face. I was watching through the crack of the door. A man came and mentioned the weeping of the women of (Hadrat) Ja'far's household. He (blessings and peace of Allah be upon him) instructed him, 'Forbid them from weeping.' The man went but came back saying they did not listen. He stated, 'Forbid them.' The man came a third time and submitted, 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! By Allah, they have overpowered us!' She (Hadrat ' Aisha) believed that he (blessings and peace of Allah be upon him) then stated, 'Then throw dust in their mouths!' I (Hadrat 'Aisha, may Allah be well pleased with her) said (to that man), 'May Allah rub your nose in the dust! You could neither carry out the command of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) nor did you spare him from trouble.'
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالوہاب نے بیان کیا، فرمایا میں نے یحییٰ سے سنا، انہوں نے فرمایا مجھے عمرہ نے خبر دی، فرمایا کہ میں نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا، انہوں نے فرمایا: جب نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو (حضرت) زید بن حارثہ، (حضرت) جعفر (بن ابی طالب) اور (حضرت) عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کی شہادت (غزوہ موتہ میں) کی خبر ملی تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اس طرح بیٹھ گئے کہ غم کے آثار آپ کے چہرے پر نمایاں تھے۔ میں دروازے کی درز سے دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور (حضرت) جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر کی عورتوں کا رونا بیان کیا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انہیں رونے سے منع کر دو۔ وہ شخص گیا لیکن واپس آ کر عرض کیا: عورتوں نے نہیں مانا۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: انہیں منع کرو۔ وہ تیسری بار لوٹ کر آیا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! اللہ کی قسم وہ ہم پر غالب آ گئی ہیں! (حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا خیال ہے کہ) آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر ان کے منہ میں مٹی ڈال دو! میں (حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا) نے (اس شخص سے) کہا: اللہ تیری ناک خاک میں ملائے! تو نہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا حکم پورا کر سکا اور نہ ہی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف سے بچا سکا۔