العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، قَالَ أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَهُمْ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهُدَيْرِ التَّيْمِيِّ ـ قَالَ أَبُو بَكْرٍ وَكَانَ رَبِيعَةُ مِنْ خِيَارِ النَّاسِ عَمَّا حَضَرَ رَبِيعَةُ مِنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ـ رضى الله عنه ـ قَرَأَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ بِسُورَةِ النَّحْلِ حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّجْدَةَ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدَ النَّاسُ، حَتَّى إِذَا كَانَتِ الْجُمُعَةُ الْقَابِلَةُ قَرَأَ بِهَا حَتَّى إِذَا جَاءَ السَّجْدَةَ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا نَمُرُّ بِالسُّجُودِ فَمَنْ سَجَدَ فَقَدْ أَصَابَ، وَمَنْ لَمْ يَسْجُدْ فَلاَ إِثْمَ عَلَيْهِ. وَلَمْ يَسْجُدْ عُمَرُ ـ رضى الله عنه. وَزَادَ نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ ـ رضى الله عنهما إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَفْرِضِ السُّجُودَ إِلاَّ أَنْ نَشَاءَ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Rabi'a bin Abdullah bin al-Hudair al-Taimi — Hadrat Abu Bakr bin Abi Mulaika said that Rabi'a was among the best of people — who related what he witnessed in the assembly of Hadrat Umar bin al-Khattab (may Allah be well pleased with him): Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) recited Surah al-Nahl on the pulpit on Friday. When he reached the verse of prostration, he descended from the pulpit and prostrated, and the people prostrated with him. On the following Friday, he recited the same Surah, and when he reached the verse of prostration, he said: 'O people! We pass by verses of prostration; whoever prostrates has done well, and whoever does not prostrate, there is no sin upon him.' And Hadrat Umar (may Allah be well pleased with him) did not prostrate that time. Nafi' reported from Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both) the addition: 'Allah has not made the prostration of recitation obligatory; it is left to our choice.'
الترجمة الأردية
ربیعہ بن عبداللہ بن ہدیر تیمی — حضرت ابوبکر بن ابی ملیکہ فرماتے ہیں کہ ربیعہ بہترین لوگوں میں سے تھے — سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمعہ کے دن منبر پر سورۃ النحل پڑھی۔ جب آیتِ سجدہ پر پہنچے تو منبر سے اتر کر سجدہ کیا اور لوگوں نے بھی ان کے ساتھ سجدہ کیا۔ اگلے جمعہ جب دوبارہ یہی سورت پڑھی اور آیتِ سجدہ پر پہنچے تو فرمایا: اے لوگو! ہم سجدے کی آیتوں سے گزرتے ہیں، جو سجدہ کرے اس نے درست کیا اور جو نہ کرے اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے (اس بار) سجدہ نہیں فرمایا۔ نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے یہ اضافہ نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سجدۂ تلاوت فرض نہیں کیا، ہماری مرضی پر رکھا ہے۔
