العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ، قَالَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، قَالَ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عِلاَقَةَ، قَالَ سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ، يَقُولُ انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ يَوْمَ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ، فَقَالَ النَّاسُ انْكَسَفَتْ لِمَوْتِ إِبْرَاهِيمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمُوهُمَا فَادْعُوا اللَّهَ وَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ ".
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Mughira bin Shu'ba (may Allah be well pleased with him) who said: On the day Hadrat Ibrahim (may Allah be well pleased with him), the beloved son of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), passed away, the sun eclipsed. The people began saying that the eclipse occurred because of Ibrahim's passing. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) declared: 'The sun and the moon are two signs among the signs of Allah; they do not eclipse because of anyone's death or life. So when you see an eclipse, call upon Allah and offer the prayer until it clears.'
الترجمة الأردية
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس دن (نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے صاحبزادے) حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات ہوئی، اسی دن سورج گرہن لگا۔ لوگوں نے کہنے لگے کہ ابراہیم کی وفات کی وجہ سے گرہن لگا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سورج اور چاند اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، نہ کسی کی موت سے گرہن لگتا ہے نہ کسی کی زندگی سے۔ لہٰذا جب تم گرہن دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے دعا کرو اور نماز پڑھو یہاں تک کہ صاف ہو جائے۔
