العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ، قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ، يَتَمَثَّلُ بِشِعْرِ أَبِي طَالِبٍ وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلأَرَامِلِ وَقَالَ عُمَرُ بْنُ حَمْزَةَ حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ وَأَنَا أَنْظُرُ، إِلَى وَجْهِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم يَسْتَسْقِي، فَمَا يَنْزِلُ حَتَّى يَجِيشَ كُلُّ مِيزَابٍ. وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالَ الْيَتَامَى عِصْمَةً لِلأَرَامِلِ وَهْوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ.
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from Hadrat Abdullah bin Dinar (upon him be mercy) who said: I heard Hadrat Abdullah bin Umar (may Allah be well pleased with them both) reciting the poetry of Abu Talib: 'And the luminous one, by whose blessed face rain is sought from the clouds, the guardian of orphans and the refuge of widows.' And Umar bin Hamza narrated from Salim, from his father who said: At times the words of the poet would come to my mind while I was looking at the blessed face of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) as he was praying for rain. He had not yet descended (from the pulpit) when every gutter began overflowing with water: 'And the luminous one, by whose blessed face rain is sought from the clouds, the guardian of orphans and the refuge of widows.' And these are the words of Abu Talib.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو ابوطالب کا شعر پڑھتے ہوئے سنا: اور وہ روشن چہرے والے (نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) جن کے چہرۂ انور کے وسیلے سے بارش طلب کی جاتی ہے، یتیموں کے سہارا اور بیواؤں کی پناہ ہیں۔ اور حضرت عمر بن حمزہ نے سالم سے، انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ بسا اوقات مجھے اس شاعر کے شعر کی یاد آتی جب میں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے چہرۂ انور کی طرف دیکھ رہا ہوتا اور آپ بارش کے لیے دعا فرما رہے ہوتے۔ ابھی آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم (منبر سے) اترے بھی نہیں تھے کہ ہر پرنالے سے پانی بہنے لگا: اور وہ روشن چہرے والے جن کے چہرۂ انور سے بارش طلب کی جاتی ہے، یتیموں کے سہارا اور بیواؤں کی پناہ ہیں۔ اور یہ ابوطالب کا شعر ہے۔
