العربية (الأصل)
436/559 عن عائشة قالت:" أرسل أزواج النبي صلى الله عليه وسلم فاطمة إلى النبي صلى الله عليه وسلم فاستأذنت والنبي مع عائشة رضي الله عنها في مرطها(1)، فأذن لها فدخلت. فقالت: إن أزواجك أرسلنني، يسألنك العدل في بنت أبي قحافة. قال: أي بنيّة! أتحبين ما أحبُّ. قالت: بلى. قال:" فأحبي هذه" فقامت، فخرجت فحدثتهم. فقلن: ما أغنيت عنا شيئاً فارجعي إليه. قالت: والله لا أكلمه فيها أبداً. فأرسلن زينب - زوج النبي صلى الله عليه وسلم - فأستأذنت، فأذن لها، فقالت له ذلك، ووقعت في زينب تسُبّني، فطفقت أنظر: هل يأذن لي النبي صلى الله عليه وسلم، فلم أزل حتى عرفت أن النبي صلى الله عليه وسلم لا يكره أن أنتصر، فوقعت بزينب، فلم أنشب أن أثخنتها غلبة، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال:"أما إنها ابنة أبي بكر".
الترجمة الإنجليزية
Aishah, may Allah be pleased with her, reported from the Prophet, peace be upon him: 'The best of you is the one who is best to his family, and I am the best of you to my family.'
الترجمة الأردية
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: (ایک بار) نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی ازواج نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی خدمت میں بھیجا، انہوں نے (آپصلی اللہ علیہ وسلمسے) اجازت چاہی اس وقت آپصلی اللہ علیہ وسلمسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس ان کی چادر میں تھے آپ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اجازت دے دی وہ آئیں اور انہوں نے (آ کر) کہا: مجھے آپ کی ازواج نے بھیجا ہے وہ آپ سے ابوقحافہ کی بیٹی کے بارے میں انصاف کا تقاضا کرتی ہیں، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اے میری بیٹی! کیا تم اس سے محبت کرتی ہو جس سے میں محبت کرتا ہوں؟“انہوں نے کہا: بے شک، آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”تو اس (عائشہ رضی اللہ عنہا) سے محبت کیا کرو“، اس کے بعد وہ اٹھیں اور باہر جا کر انہوں نے رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمکی ازواج کو اطلاع دے دی، انہوں نے کہا: تم تو ہمارے کچھ بھی کام نہ آئیں، ان کے پاس دوبارہ جاؤ، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اس بارے میں آپ سے کبھی بھی کچھ نہ کہوں گی، اس کے بعد انہوں نے نبیصلی اللہ علیہ وسلمکی زوجہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو بھیجا انہوں نے آپ سے اجازت چاہی، آپ نے انہیں بھی اجازت دے دی، انہوں نے بھی آ کر آپ سے وہی کہا: اور اس کے ساتھ ساتھ مجھے سخت سست کہا: تو میں (آپصلی اللہ علیہ وسلمکی طرف) دیکھنے لگی کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلممجھے (بھی بولنے کی) اجازت دیتے ہیں؟ میں مسلسل آپ کو دیکھتی رہی یہا ں تک کہ میں نے محسوس کیا اگر میں جواب دوں تو آپ کو برا نہیں لگے گا، پھر میں نے بھی زینب کے بارے میں باتیں کیں اور ان پر غالب آ کر انہیں چپ کرا لیا اس پر رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلممسکرانے لگے پھر فرمایا:”آخر ابوبکر کی بیٹی ہے۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 436]
