العربية (الأصل)
402/517 عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال:" يقول الله: استطعمتك فلم تطعمني. قال: فيقول: يا ربّ! وكيف استطعمتني، ولم أطعمك وأنت رب العالمين؟ قال: أما علمت أن عبدي فلاناً استطعمك فلم تطعمه؟ أما عملت أنك لو أطعمته لوجدت ذلك عندي؟ ابن آدم! استسقيتك فلم تُسقني. فقال: يا رب! وكيف أسقيك وأنت رب العالمين؟ فيقول:[ إن عبدي فلاناً استسقاك فلم تسقه]أما علمت أنك لو كنت سقيته لوجدت ذلك عندي؟ يا ابن آدم! مرضت فلم تعدني. قال: يا رب! كيف أعودك، وأنت رب العالمين؟ قال: أما علمت أن عبدي فلاناً مرض، فلو كنت عدته لوجدت ذلك عندي؟ أو وجدتني عنده؟".
الترجمة الإنجليزية
Abu Hurayrah reported from the Messenger of Allah, peace be upon him, who said, 'Allah will say: "I asked you for food and you did not feed Me." The servant will say, "O Lord, how could I feed You when You are the Lord of the worlds?" He will say, "Did you not know that My servant so-and-so asked you for food and you did not feed him? Did you not know that had you fed him, you would have found that with Me? O son of Adam, I asked you for water and you did not give Me water." He will say, "O Lord, how could I give You water when You are the Lord of the worlds?" He will say, "My servant so-and-so asked you for water and you did not give him water. Did you not know that had you given him water, you would have found that with Me? O son of Adam, I was ill and you did not visit Me." He will say, "O Lord, how could I visit You when You are the Lord of the worlds?" He will say, "Did you not know that My servant so-and-so was ill? Had you visited him, you would have found that with Me" — or "you would have found Me with him."'
الترجمة الأردية
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ رسول اللہصلی اللہ علیہ وسلمسے روایت کرتے ہیں کہ آپصلی اللہ علیہ وسلمنے فرمایا:”اللہ فرماتا ہے کہ میں نے تم سے کھانا مانگا اور تم نے مجھے کھانا نہیں دیا، بندہ کہے گا، اے میرے رب! تو نے مجھ سے کیسے کھانا مانگا؟ اور میں نے نہیں دیا اور تُو تو رب العالمین ہے، اللہ فرمائے گا: تجھے خبر نہیں کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانا مانگا لیکن تم نے اسے نہیں دیا، کیا تمہیں نہیں معلوم کہ اگر تم نے اسے کھلایا ہوتا تو اس کا ثواب میرے پاس پا لیتا۔ اے ابن آدم! میں نے تم سے پانی طلب کیا، تم نے مجھے پانی نہیں پلایا۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! میں تجھے کیسے پانی پلاتا تو تو رب العالمین ہے۔ تو اللہ فرمائے گا: میرے فلاں بندے نے تم سے پانی مانگا اور تم نے اسے نہیں دیا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ اگر تم اسے پانی پلاتے تو اس کا اجر میرے پاس پاتے۔ اے ابن آدم! میں بیمار ہوا، تم نے میری بیمار پرسی نہیں کی۔ بندہ کہے گا: اے میرے رب میں تیری بیمار پرسی کیسے کرتا جبکہ توتو رب العالمین ہے، اللہ فرمائے گا: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میرا فلاں بندہ بیمار پڑا اگر تم نے اس کی بیمار پرسی کی ہوتی تو اس کا ثواب میرے پاس پا لیتے یا مجھے اس کے پاس پا لیتے۔“[صحيح الادب المفرد/حدیث: 402]
