العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلِمَةَ، قَالَ كُنَّا بِحَاضِرٍ يَمُرُّ بِنَا النَّاسُ إِذَا أَتَوُا النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَكَانُوا إِذَا رَجَعُوا مَرُّوا بِنَا فَأَخْبَرُونَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم قَالَ كَذَا وَكَذَا وَكُنْتُ غُلاَمًا حَافِظًا فَحَفِظْتُ مِنْ ذَلِكَ قُرْآنًا كَثِيرًا فَانْطَلَقَ أَبِي وَافِدًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فِي نَفَرٍ مِنْ قَوْمِهِ فَعَلَّمَهُمُ الصَّلاَةَ فَقَالَ " يَؤُمُّكُمْ أَقْرَؤُكُمْ " . وَكُنْتُ أَقْرَأَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَحْفَظُ فَقَدَّمُونِي فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَعَلَىَّ بُرْدَةٌ لِي صَغِيرَةٌ صَفْرَاءُ فَكُنْتُ إِذَا سَجَدْتُ تَكَشَّفَتْ عَنِّي فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ النِّسَاءِ وَارُوا عَنَّا عَوْرَةَ قَارِئِكُمْ . فَاشْتَرَوْا لِي قَمِيصًا عُمَانِيًّا فَمَا فَرِحْتُ بِشَىْءٍ بَعْدَ الإِسْلاَمِ فَرَحِي بِهِ فَكُنْتُ أَؤُمُّهُمْ وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ أَوْ ثَمَانِ سِنِينَ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Amr ibn Salamah narrates: 'We were at a settlement through which people passed on their way to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him). On their return, they would pass by us and tell us that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated such-and-such. I was a boy with a good memory, so I memorized a great deal of the Quran from that. My father went as a delegate to the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) with some men of his tribe. He (blessings and peace of Allah be upon him) taught them the prayer and stated: "Let the one who knows the most Quran among you lead you." I knew the most Quran among them because of what I had memorized, so they put me forward and I led them in prayer. I had a small yellow cloak, and when I prostrated, it would ride up (exposing me). A woman said: "Cover the nakedness of your reciter!" So they bought me an Omani shirt. I was never as happy about anything after accepting Islam as I was about that shirt. I used to lead them in prayer while I was seven or eight years old.'
الترجمة الأردية
حضرت عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں: ہم ایک ایسی آبادی میں تھے جہاں سے لوگ گزرتے تھے جب وہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاتے۔ واپسی پر وہ ہمارے پاس سے گزرتے اور ہمیں بتاتے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ایسا ایسا فرمایا۔ میں حافظ بچہ تھا، اس لیے بہت سا قرآن یاد کر لیا۔ میرے والد اپنی قوم کے چند لوگوں کے ساتھ وفد بن کر رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں نماز سکھائی اور ارشاد فرمایا: تمہاری امامت وہ کرے جو تم میں سب سے زیادہ قرآن پڑھنے والا ہو۔ اور میں ان سب سے زیادہ قرآن جانتا تھا اس لیے کہ مجھے حفظ تھا۔ چنانچہ انہوں نے مجھے آگے کیا اور میں ان کی امامت کرتا تھا۔ میرے پاس ایک چھوٹی سی پیلی چادر تھی۔ جب میں سجدہ کرتا تو وہ (چادر) کھسک جاتی۔ ایک عورت نے کہا: اپنے قاری کا ستر تو ڈھانکو! چنانچہ لوگوں نے میرے لیے ایک عمانی قمیص خرید دیا۔ اسلام (لانے) کے بعد مجھے کسی چیز کی اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی اس قمیص کی۔ میں ان کی امامت کرتا تھا اور میری عمر سات یا آٹھ سال تھی۔
