العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي السَّفَرِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ الصَّلْتِ، عَنْ عَمِّهِ، أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ فَأَتَوْهُ فَقَالُوا إِنَّكَ جِئْتَ مِنْ عِنْدِ هَذَا الرَّجُلِ بِخَيْرٍ فَارْقِ لَنَا هَذَا الرَّجُلَ . فَأَتَوْهُ بِرَجُلٍ مَعْتُوهٍ فِي الْقُيُودِ فَرَقَاهُ بِأُمِّ الْقُرْآنِ ثَلاَثَةَ أَيَّامٍ غُدْوَةً وَعَشِيَّةً كُلَّمَا خَتَمَهَا جَمَعَ بُزَاقَهُ ثُمَّ تَفَلَ فَكَأَنَّمَا أُنْشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَأَعْطُوهُ شَيْئًا فَأَتَى النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَذَكَرَهُ لَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " كُلْ فَلَعَمْرِي لَمَنْ أَكَلَ بِرُقْيَةٍ بَاطِلٍ لَقَدْ أَكَلْتَ بِرُقْيَةٍ حَقٍّ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated from the uncle of Kharijah ibn al-Salt (Hadrat Alaqah ibn Sahar al-Tamimi, may Allah be well pleased with him) that he passed by a clan of people. They came to him and said: You have brought goodness from that blessed person (meaning the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), blessings and peace of Allah be upon him), so please perform a healing recitation for this man of ours. They brought a lunatic bound in chains. He recited Surah al-Fatihah over him for three days, morning and evening. Each time he completed it, he would gather his saliva and blow upon him. The man recovered as though released from a bond. They gave him something as payment. He then went to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and mentioned the matter. The Beloved Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Eat it (without worry)! By my life, some people eat by means of a false incantation, but you have eaten by means of a genuine one.
الترجمة الأردية
حضرت خارجہ بن صلت کے چچا (حضرت علاقہ بن صحار تمیمی) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ان کا گزر ایک قوم کے پاس سے ہوا، تو وہ لوگ ان کے پاس آئے اور کہا: آپ اُس مبارک ہستی (یعنی محبوبِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سے خیر لے کر آئے ہیں، تو ہمارے اس آدمی کو دم کر دیجیے۔ پھر وہ لوگ ایک پاگل شخص لائے جو رسیوں میں بندھا ہوا تھا، تو اُنہوں نے تین دن تک صبح و شام سورۃ الفاتحہ پڑھ کر اس پر دم کیا۔ جب بھی سورت ختم کرتے تو تھوک جمع کرتے پھر پھونکتے، چنانچہ وہ ایسا ہو گیا جیسے گرہ سے آزاد کر دیا گیا ہو۔ اُنہوں نے کچھ (معاوضہ) دیا۔ پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور یہ واقعہ بیان کیا۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کھاؤ (بے فکر ہو کر)! قسم ہے میری جان کی، لوگ تو جھوٹے منتر سے کھاتے ہیں، تم نے تو سچے منتر سے کھایا ہے۔
