العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ عُبَيْدٍ أَبُو قُدَامَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الأَخْنَسِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، : أَنَّ امْرَأَةً، أَتَتِ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَضْرِبَ عَلَى رَأْسِكَ بِالدُّفِّ . قَالَ : " أَوْفِي بِنَذْرِكِ " . قَالَتْ : إِنِّي نَذَرْتُ أَنْ أَذْبَحَ بِمَكَانِ كَذَا وَكَذَا، مَكَانٌ كَانَ يَذْبَحُ فِيهِ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ . قَالَ : " لِصَنَمٍ " . قَالَتْ : لاَ . قَالَ : " لِوَثَنٍ " . قَالَتْ : لاَ . قَالَ : " أَوْفِي بِنَذْرِكِ " .
الترجمة الإنجليزية
It is narrated through Amr ibn Shu'ayb from his father from his grandfather (may Allah be well pleased with them) that a woman came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and submitted: O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him), I have vowed to beat the tambourine over your blessed head. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Fulfill your vow. She submitted: I have also vowed to slaughter at such-and-such a place — a place where the people of the pre-Islamic era used to slaughter. He (blessings and peace of Allah be upon him) asked: Was there any idol of the idols worshipped there? She said: No. He asked: Was there any festival of the pre-Islamic festivals held there? She said: No. He (blessings and peace of Allah be upon him) stated: Fulfill your vow.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے ان کے والد سے اور ان کے دادا سے مروی ہے کہ ایک عورت نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا: یا رسول اللہ! میں نے نذر مانی ہے کہ آپ کے سرِ مبارک پر دف بجاؤں گی۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی نذر پوری کرو۔ اس نے عرض کیا: میں نے فلاں فلاں جگہ ذبح کرنے کی بھی نذر مانی ہے — یہ ایسی جگہ تھی جہاں اہلِ جاہلیت ذبح کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (پہلے بتاؤ) کیا وہاں کسی بت کے لیے ذبح ہوتا تھا؟ اس نے عرض کیا: نہیں۔ ارشاد فرمایا: کیا وہاں کوئی جاہلیت کا میلہ (عید) ہوتا تھا؟ اس نے عرض کیا: نہیں۔ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنی نذر پوری کرو۔
