العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ فَلاَ تَصُومُوا حَتَّى تَرَوْهُ وَلاَ تُفْطِرُوا حَتَّى تَرَوْهُ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَاقْدُرُوا لَهُ ثَلاَثِينَ " . قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا كَانَ شَعْبَانُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ نُظِرَ لَهُ فَإِنْ رُؤِيَ فَذَاكَ وَإِنْ لَمْ يُرَ وَلَمْ يَحُلْ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ وَلاَ قَتَرَةٌ أَصْبَحَ مُفْطِرًا فَإِنْ حَالَ دُونَ مَنْظَرِهِ سَحَابٌ أَوْ قَتَرَةٌ أَصْبَحَ صَائِمًا . قَالَ فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُفْطِرُ مَعَ النَّاسِ وَلاَ يَأْخُذُ بِهَذَا الْحِسَابِ .
الترجمة الإنجليزية
Hadrat Abdullah ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) narrated that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "The month is twenty-nine days, so do not fast until you see the crescent, and do not break the fast (i.e. celebrate Eid) until you see it. If it is obscured from you, then complete thirty days." The narrator said: When the twenty-ninth of Sha'ban would come, Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) would look for the crescent. If it was sighted, well and good; and if it was not sighted and there were no clouds or haze obstructing the view, he would begin the morning without fasting. But if clouds or haze obstructed the view, he would begin the morning fasting. The narrator added: Hadrat Ibn Umar (may Allah be well pleased with them both) would break his fast with the people and would not follow this calculation.
الترجمة الأردية
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے، پس جب تک چاند نہ دیکھ لو روزہ نہ رکھو، اور جب تک چاند نہ دیکھ لو افطار نہ کرو (یعنی عید نہ منعاؤ)، اور اگر بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کرو۔" راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما جب شعبان کی انتیس تاریخ ہوتی تو چاند دیکھتے، اگر نظر آ جاتا تو ٹھیک، اور اگر نظر نہ آتا اور آسمان پر بادل یا دھند نہ ہوتی تو صبح بغیر روزے کے ہوتے، اور اگر بادل یا دھند مانع ہوتی تو صبح روزے سے ہوتے۔ راوی نے کہا: حضرت ابنِ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما لوگوں کے ساتھ افطار کرتے تھے اور اس حساب (کے مطابق) عمل نہیں کرتے تھے۔
