العربية (الأصل)
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، أَخْبَرَنِي مَنْ، أُصَدِّقُ وَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ عَائِشَةَ قَالَ كُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَامَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم قِيَامًا شَدِيدًا يَقُومُ بِالنَّاسِ ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ ثُمَّ يَقُومُ ثُمَّ يَرْكَعُ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ ثَلاَثُ رَكَعَاتٍ يَرْكَعُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ يَسْجُدُ حَتَّى إِنَّ رِجَالاً يَوْمَئِذٍ لَيُغْشَى عَلَيْهِمْ مِمَّا قَامَ بِهِمْ حَتَّى إِنَّ سِجَالَ الْمَاءِ لَتُصَبُّ عَلَيْهِمْ يَقُولُ إِذَا رَكَعَ " اللَّهُ أَكْبَرُ " . وَإِذَا رَفَعَ " سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ " . حَتَّى تَجَلَّتِ الشَّمْسُ ثُمَّ قَالَ " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلاَ لِحَيَاتِهِ وَلَكِنَّهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ يُخَوِّفُ بِهِمَا عِبَادَهُ فَإِذَا كُسِفَا فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلاَةِ " .
الترجمة الإنجليزية
'Ubayd ibn 'Umayr narrates: I was informed by one whom I trust — and I believe he meant Umm al-Mu'minin Hadrat Aisha (may Allah be well pleased with her): During the time of the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him), a solar eclipse occurred. He stood with the people for prayer. He stood very long, then bowed, then stood, then bowed, then stood, then bowed — thus praying two rak'ahs with three bowings in each rak'ah. He prostrated after the third bowing. That day, several men fainted due to the length of the standing, and water was poured upon them. He would say 'Allahu Akbar' when bowing and 'Sami' Allahu li-man hamidah' when rising — until the sun cleared. Then he stated: 'The sun and the moon do not eclipse because of anyone's death or life; rather they are two signs from among the signs of Allah the Almighty. He frightens His servants through them. When an eclipse occurs, hasten to prayer.'
الترجمة الأردية
عبید بن عمیر فرماتے ہیں: مجھے ایسے شخص نے بتایا جن کی میں تصدیق کرتا ہوں — اور میرا گمان ہے کہ ان کی مراد حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں — فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں سورج گرہن ہوا — آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کو لے کر نماز کے لیے کھڑے ہوئے — بہت لمبا قیام فرمایا — پھر رکوع — پھر کھڑے ہوئے — پھر رکوع — پھر کھڑے ہوئے — پھر رکوع — یوں دو رکعتیں پڑھیں جن میں ہر رکعت میں تین رکوع تھے — تیسرے رکوع کے بعد سجدہ فرمایا — یہاں تک کہ اس دن کئی مردوں پر غشی طاری ہو گئی اس لمبے قیام کی وجہ سے — یہاں تک کہ ان پر پانی کے ڈول ڈالے جاتے تھے — رکوع میں اَللہُ اَکْبَرُ فرماتے اور اٹھتے وقت سَمِعَ اللہُ لِمَنْ حَمِدَہ فرماتے — یہاں تک کہ سورج صاف ہو گیا — پھر ارشاد فرمایا: سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے سے نہیں گہناتے بلکہ یہ اللہ عزّ وجل کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں — ان سے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے — جب گرہن ہو تو نماز کی طرف لپکو۔
