عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ، قَالَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً، مِنْ خَثْعَمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللَّهِ فِي الْحَجِّ وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لاَ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَوِيَ عَلَى ظَهْرِ الْبَعِيرِ . قَالَ " حُجِّي عَنْهُ " . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَبُرَيْدَةَ وَحُصَيْنِ بْنِ عَوْفٍ وَأَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ وَسَوْدَةَ بِنْتِ زَمْعَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَيْضًا عَنْ سِنَانِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْجُهَنِيِّ عَنْ عَمَّتِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ هَذِهِ الرِّوَايَاتِ فَقَالَ أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ مَا رَوَى ابْنُ عَبَّاسٍ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ مُحَمَّدٌ وَيَحْتَمِلُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ سَمِعَهُ مِنَ الْفَضْلِ وَغَيْرِهِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم ثُمَّ رَوَى هَذَا عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَأَرْسَلَهُ وَلَمْ يَذْكُرِ الَّذِي سَمِعَهُ مِنْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى وَقَدْ صَحَّ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فِي هَذَا الْبَابِ غَيْرُ حَدِيثٍ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَغَيْرِهِمْ وَبِهِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَابْنُ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ يَرَوْنَ أَنْ يُحَجَّ عَنِ الْمَيِّتِ . وَقَالَ مَالِكٌ إِذَا أَوْصَى أَنْ يُحَجَّ عَنْهُ حُجَّ عَنْهُ . وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُهُمْ أَنْ يُحَجَّ عَنِ الْحَىِّ إِذَا كَانَ كَبِيرًا أَوْ بِحَالٍ لاَ يَقْدِرُ أَنْ يَحُجَّ . وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَالشَّافِعِيِّ .
انگریزی ترجمہ
Al-Fadl bin Abbas narrated:"A woman from Khath'am submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! My father has lived until Allah has made Hajj obligatory, and he is an elderly man who is not able to sit on the back of a camel.' So he (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Perform Hajj for him
اردو ترجمہ
حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے والد کو اللہ کے فریضہ حج نے پا لیا ہے لیکن وہ اتنے بوڑھے ہیں کہ اونٹ کی پیٹھ پر بیٹھ نہیں سکتے ( تو کیا کیا جائے؟ ) ۔ آپ نے فرمایا: ”تو ان کی طرف سے حج کر لے“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے، ۲- حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے حصین بن عوف مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے، ۳- حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ سنان بن عبداللہ جہنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی پھوپھی سے اور ان کی پھوپھی نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے، ۴- حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے براہ راست نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے بھی روایت کی ہے، ۵- امام ترمذی فرماتے ہیں: میں نے ان روایات کے بارے میں محمد بن اسماعیل بخاری سے پوچھا تو انہوں نے کہا: اس باب میں سب سے صحیح روایت وہ ہے جسے حضرت ابن عباس نے فضل بن عباس سے اور فضل نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہے ۶- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ اس کا بھی احتمال ہے کہ حضرت ابن عباس نے اسے ( اپنے بھائی ) فضل سے اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں سے بھی سنا ہو اور ان لوگوں نے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کی ہو، اور پھر حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے اسے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے مرسلاً روایت کی ہو اور جس سے انہوں نے اسے سنا ہو اس کا نام ذکر نہ کیا ہو، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اس باب میں کئی اور بھی احادیث ہیں، ۷- اس باب میں علی، بریدہ، حصین بن عوف، ابورزین عقیلی، سودہ بنت زمعہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں، ۸- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے، اور یہی ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں کہ میت کی طرف سے حج کیا جا سکتا ہے، ۹- مالک کہتے ہیں: میت کی طرف سے حج اس وقت کیا جائے گا جب وہ حج کرنے کی وصیت کر گیا ہو، ۱۰- بعض لوگوں نے زندہ شخص کی طرف سے جب وہ بہت زیادہ بوڑھا ہو گیا ہو یا ایسی حالت میں ہو کہ وہ حج پر قدرت نہ رکھتا ہو حج کرنے کی اجازت دی ہے۔ یہی ابن مبارک اور شافعی کا بھی قول ہے۔
