عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ خِلاَسٍ، نَحْوَهُ . وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَلِيٍّ، . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ عَلِيٍّ فِيهِ اضْطِرَابٌ . وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم نَهَى أَنْ تَحْلِقَ الْمَرْأَةُ رَأْسَهَا . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ لاَ يَرَوْنَ عَلَى الْمَرْأَةِ حَلْقًا وَيَرَوْنَ أَنَّ عَلَيْهَا التَّقْصِيرَ .
انگریزی ترجمہ
(Another chain) with similar (as no. 914) from Khilas:But he did not mention "from Ali
اردو ترجمہ
اس سند سے بھی خلاس سے اسی طرح مروی ہے، لیکن اس میں انہوں نے علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- علی المرتضیٰ کرّم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم کی حدیث میں اضطراب ہے، یہ حدیث حماد بن سلمہ سے بطریق: «قتادة عن عائشة أن النبي صلى الله عليه وسلم» مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے عورت کو اپنا سر مونڈانے سے منع فرمایا، ۲- اہل علم کا اسی پر عمل ہے، وہ عورت کے لیے سر منڈانے کو درست نہیں سمجھتے ان کا خیال ہے کہ اس پر تقصیر ( بال کتروانا ) ہے۔
