عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَقَدَّمُوا الشَّهْرَ بِيَوْمٍ وَلاَ بِيَوْمَيْنِ إِلاَّ أَنْ يُوَافِقَ ذَلِكَ صَوْمًا كَانَ يَصُومُهُ أَحَدُكُمْ صُومُوا لِرُؤْيَتِهِ وَأَفْطِرُوا لِرُؤْيَتِهِ فَإِنْ غُمَّ عَلَيْكُمْ فَعُدُّوا ثَلاَثِينَ ثُمَّ أَفْطِرُوا " . رَوَى مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم بِنَحْوِ هَذَا . قَالَ وَفِي الْبَابِ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم . قَالَ أَبُو عِيسَى حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ كَرِهُوا أَنْ يَتَعَجَّلَ الرَّجُلُ بِصِيَامٍ قَبْلَ دُخُولِ شَهْرِ رَمَضَانَ لِمَعْنَى رَمَضَانَ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يَصُومُ صَوْمًا فَوَافَقَ صِيَامُهُ ذَلِكَ فَلاَ بَأْسَ بِهِ عِنْدَهُمْ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah (may Allah be well pleased with him) narrates that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Do not precede the month (of Ramadan) by fasting a day or two before it, unless it coincides with a fast that one of you would normally observe. Fast upon sighting the crescent and break the fast upon sighting the crescent. If it is cloudy, then complete thirty days, and then break the fast." Imam Tirmidhi (upon him be mercy) says: The hadith of Hadrat Abu Hurairah is Hasan Sahih. The practice of the scholars is in accordance with this. They considered it disliked for a person to fast before the arrival of Ramadan with the intention of Ramadan. However, if a person habitually fasts on certain days and his fast coincides with those days, then there is no harm in that according to them.
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "(رمضان کے) مہینے سے ایک یا دو دن پہلے روزے نہ رکھو، مگر یہ کہ وہ دن ایسے روزے سے موافق ہو جو تم میں سے کوئی (پہلے سے) رکھتا ہو۔ چاند دیکھ کر روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار کرو۔ اگر (آسمان پر) بادل چھائے ہوں تو تیس دن پورے کر لو، پھر افطار کرو۔" امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ اہل علم کے نزدیک اسی پر عمل ہے۔ وہ اس بات کو مکروہ سمجھتے ہیں کہ آدمی رمضان کے آنے سے پہلے رمضان کی نیت سے روزے رکھے۔ اور اگر کسی آدمی کا (مخصوص دنوں میں) روزہ رکھنے کا معمول ہو اور اس کا روزہ ان دنوں میں آ پڑے تو ان کے نزدیک اس میں کوئی حرج نہیں۔
