عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، قَالَ حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ السَّبَّاقِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم هَبَطْتُ وَهَبَطَ النَّاسُ الْمَدِينَةَ فَدَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ أُصْمِتَ فَلَمْ يَتَكَلَّمْ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَضَعُ يَدَيْهِ عَلَىَّ وَيَرْفَعُهُمَا فَأَعْرِفُ أَنَّهُ يَدْعُو لِي . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Muhammad bin Usamah bin Zaid that from his father, that he said: "When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) became weak, I marched and the people marched upon Al-Madinah. I entered upon the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and he was unable to speak (because of weakness), so he did not say anything. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) began to place his hands upon me and then raise them up, so I knew he was supplicating for me
اردو ترجمہ
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیماری شدید ہو گئی تو میں ( «جرف» سے ) اتر کر مدینہ آیا اور ( میرے ساتھ ) کچھ اور لوگ بھی آئے، میں رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اندر گیا تو آپ کی زبان بند ہو چکی تھی، پھر اس کے بعد آپ کچھ نہیں بولے، آپ اپنے دونوں ہاتھ میرے اوپر رکھتے اور اٹھاتے تھے تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔
