عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، قَالَ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ دَاوُدَ الْعَطَّارِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلاَلِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَىُّ بْنُ كَعْبٍ وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ " . هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ . وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو قِلاَبَةَ عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ وَالْمَشْهُورُ حَدِيثُ أَبِي قِلاَبَةَ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Anas bin Malik that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "The most merciful of my nation to my nation is Hadrat Abu Bakr, and the most severe of them concerning the order of Allah is 'Umar, and the most truly modest of them is Hadrat 'Uthman bin 'Affan. The most knowledgeable of them concerning the lawful and unlawful is Hadrat Mu'adh Bin Jabal, the most knowledgeable of them concerning (the laws of) inheritance is Hadrat Zaid bin Thabit, the best reciter (of the Qur'an) among them is Hadrat Ubayy bin Ka'b, and every nation has a trustworthy one, and the trustworthy one of this nation is Abu 'Ubaidah Bin Al-Jarrah
اردو ترجمہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے حضرت ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے حضرت عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار حضرت معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض ( میراث ) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین حضرت ابوعبیدہ بن جراح ہیں“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ۲- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔
