عربی (اصل)
حَدَّثَنَاإِسْحَاقُ بْنُ مُوسَى الأَنْصَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم قَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ . قَالَتْ فَقَالَ " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . قَالَتْ عَائِشَةُ فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " إِنَّكُنَّ لأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ مَا كُنْتُ لأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأَبِي مُوسَى وَابْنِ عَبَّاسٍ وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat ' Aishah that the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Order Hadrat Abu Bakr to lead the people in Salat." Hadrat 'Aishah submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! If Hadrat Abu Bakr takes your place, the people will not be able to hear due to his crying, so order 'Umar to lead the people in Salat." She said: "So he said: 'Order Hadrat Abu Bakr to lead the people in Salat.'" Hadrat 'Aishah said: "So I said to Hadrat Hafsah: 'Tell him that if Hadrat Abu Bakr takes your place, then the people will not be able to hear due to his crying, so order 'Umar to lead the people in Salat.'" Upon this Hadrat Hafsah did it. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stated: "Indeed you are but like the companions of Yusuf (upon him be peace)! Order Hadrat Abu Bakr to lead the people in Salat." So Hadrat Hafsah said to Hadrat 'Aishah: "I never received any good from you
اردو ترجمہ
حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا: ”حضرت ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“، اس پر حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا: اللہ کے رسول! حضرت ابوبکر جب آپ کی جگہ ( نماز پڑھانے ) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ۱؎، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں، پھر آپ نے فرمایا: ”حضرت ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں“۔ حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں: تو میں نے حفصہ سے کہا: تم ان سے کہو کہ حضرت ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے ( ایسا ہی ) کیا، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف علیہ السلام کو تنگ کیا، حضرت ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ سے ( بطور شکایت ) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس باب میں حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت ابوموسیٰ اشعری، حضرت ابن عباس، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
