عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ إِنَّكُمْ تَعُدُّونَ الآيَاتِ عَذَابًا وَإِنَّا كُنَّا نَعُدُّهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم بَرَكَةً لَقَدْ كُنَّا نَأْكُلُ الطَّعَامَ مَعَ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَنَحْنُ نَسْمَعُ تَسْبِيحَ الطَّعَامِ . قَالَ وَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِإِنَاءٍ فَوَضَعَ يَدَهُ فِيهِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبُعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " حَىَّ عَلَى الْوَضُوءِ الْمُبَارَكِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ السَّمَاءِ " . حَتَّى تَوَضَّأْنَا كُلُّنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat ' Abdullah that "You consider the signs to be punishment, whereas we used to think of them as a blessing during the time of the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him). We used to eat food with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and we would hear the food's Tasbih." He said: "And the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was brought a container, so he put his hand it in, and the water began to spring from between his fingers. So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Hasten to the blessed Wudu and the blessing from the heavens' until all of had performed Wudu
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ تم لوگ اللہ کی نشانیوں کو عذاب سمجھتے ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اسے برکت سمجھتے تھے، ہم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تھے اور ہم کھانے کو تسبیح پڑھتے سنتے تھے، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک برتن لایا گیا اس میں آپ نے اپنا ہاتھ رکھا تو آپ کی انگلیوں کے بیچ سے پانی ابلنے لگا، پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”آؤ اس برکت پانی سے وضو کرو اور یہ بابرکت آسمان سے نازل ہو رہی ہے، یہاں تک کہ ہم سب نے وضو کر لیا“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
