عربی (اصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ خُنَيْسٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، قَالَ قَالَ لِي ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ رَأَيْتُنِي اللَّيْلَةَ وَأَنَا نَائِمٌ كَأَنِّي أُصَلِّي خَلْفَ شَجَرَةٍ فَسَجَدَتِ الشَّجَرَةُ لِسُجُودِي وَسَمِعْتُهَا وَهِيَ تَقُولُ اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ . قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ لِي جَدُّكَ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَقَرَأَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم سَجْدَةً ثُمَّ سَجَدَ . قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ مِثْلَ مَا أَخْبَرَ الرَّجُلُ عَنْ قَوْلِ الشَّجَرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Al-Hasan bin Muhammad bin Ubaidullah bin Abi Yazid (may Allah be well pleased with him) said:“Ibn Juraij said to me: “Ubaidullah bin Abi Yazid informed me that Hadrat Ibn Abbas said: “A man came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and said: ‘O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I had a dream at night while I was sleeping, in which I was praying behind a tree, when I prostrated, the tree prostrated along with me. Then I heard it saying: “O Allah! Record for me a reward with You for it, remove a sin from me by it, and store it away for me with You for it, and accept it from me as You accepted it from Your worshipper Dawud (upon him be peace) (Allāhumma uktub lī bihā `indaka ajran, waḍa` `annī bihā wizran, waj`alhā lī `indaka dhukhran, wa taqabbalhā minnī kamā taqabbalta min `abdika Dāwūd).” Al-Hasan said: “Ibn Juraij said to me: ‘Your grandfather said to me: “Hadrat Ibn Abbas said: ‘So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) recited (an Ayah of) prostration, then prostrated.’” [He said] “So Hadrat Ibn Abbas said: ‘I listened to him, and he was saying the same as the man informed that the tree had said.’”
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! میں سویا ہوا تھا، رات میں نے اپنے آپ کو خواب میں دیکھا تو ان میں ایک درخت کے پیچھے نماز پڑھ رہا ہوں، میں نے سجدہ کیا تو درخت نے بھی میرے سجدے کی متابعت کرتے ہوئے سجدہ کیا، میں نے سنا وہ پڑھ رہا تھا: «اللهم اكتب لي بها عندك أجرا وضع عني بها وزرا واجعلها لي عندك ذخرا وتقبلها مني كما تقبلتها من عبدك داود» ”اے اللہ! تو اس کے بدلے میرے لیے اپنے پاس اجر و ثواب لکھ لے، اور اس کے عوض مجھ پر سے ( گناہوں کا ) بوجھ اتار دے اور اسے اپنے پاس ( میرے لیے آخرت کا ) ذخیرہ بنا دے، اور اسے میرے لیے ایسے ہی قبول کر لے جس طرح تو نے اپنے بندے داود علیہ السلام کے لیے قبول کیا تھا“۔ ابن جریج کہتے ہیں: مجھ سے تمہارے ( یعنی حسن بن عبیداللہ کے ) دادا ( عبیداللہ ) نے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ( اس موقع پر ) سجدہ کی ایک آیت پڑھی، پھر سجدہ کیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: میں نے آپ کو ( سجدہ میں ) پڑھتے ہوئے سنا آپ وہی دعا پڑھ رہے تھے، جو ( خواب والے ) آدمی نے آپ کو درخت کی دعا سنائی تھی ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے کسی اور سے نہیں صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ۲- اس باب میں حضرت ابو سعید خدری سے بھی روایت ہے۔
