عربی (اصل)
حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ، عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَأَبُو دَاوُدَ قَالاَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ عِصَامٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ أَهْلِ الْبَصْرَةِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم سُئِلَ عَنِ الشَّفْعِ وَالْوَتْرِ فَقَالَ " هِيَ الصَّلاَةُ بَعْضُهَا شَفْعٌ وَبَعْضُهَا وَتْرٌ " . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لاَ نَعْرِفُهُ إِلاَّ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ . وَقَدْ رَوَاهُ خَالِدُ بْنُ قَيْسٍ الْحُدَّانِيُّ عَنْ قَتَادَةَ أَيْضًا .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Imran bin Husain narrated that The Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) was asked about Ash-Shafi, so he said: “It is As-Salat, some of it is Shaf (even) and some of it is Witr (odd).”
اردو ترجمہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے «شفع» اور «وتر» کے بارے میں پوچھا گیا کہ «شفع» ( جفت ) اور «الوتر» ( طاق ) سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اس سے مراد نماز ہے، بعض نمازیں «شفع» ( جفت ) ہیں اور بعض نمازیں «وتر» ( طاق ) ہیں“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث غریب ہے، ۲- ہم اسے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں، ۳- خالد بن قیس حدانی نے بھی اسے قتادہ سے روایت کیا ہے۔
