It is narrated by Hadrat ' Imran bin Husain that "We were with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) on a journey when some of his Companions fell behind. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) raised his voice reciting these two Ayat: "O mankind! Have Taqwa of your Lord! Verily the earthquake of the hour is a terrible thing..." up to His saying: but Allah's torment is severe (21:1 & 2)." When his Companions heard that, they hastened to catch up with him, since they knew that he had something to say. He (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Do you know what Day this is? That is the Day when Adam (upon him be peace) will be called. His Lord will call him and say: O Adam, send forth those who are to be sent to the Fire. He will say: O Lord! How many are to be sent to the Fire? He will say: From every one-thousand there are nine-hundred and ninety-nine for the Fire and one for Paradise. So the people despaired as if they would not smile again. When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saw the state of his Companions, he said: 'Strive hard and receive the good news. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him), you will be counted with two creations who are immense in numbers; Ya'juj and Ma'juj, and those who have died among the progeny of Adam and the progeny of Iblis.'" He said: "So some of the people's grief went away, and he (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Strive hard and receive the good news. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)! Among mankind, you are but like the mole on the flank of a camel, or a mark on the foreleg of a beast
اردو ترجمہ
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، اور چلنے میں ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہو گئے تھے، آپ نے بآواز بلند یہ دونوں آیتیں: «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے لے کر «عذاب الله شديد» تک تلاوت فرمائی، جب صحابہ نے یہ سنا تو اپنی سواریوں کو ابھار کر ان کی رفتار بڑھا دی، اور یہ جان لیا کہ کوئی بات ہے جسے آپ فرمانے والے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“، صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکاریں گے اور وہ اپنے رب کو جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: «ابعث بعث النار» ”بھیجو جہنم میں جانے والی جماعت کو“، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے ہمارے رب! «بعث النار» ”کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟“ اللہ کہے گا: ایک ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا، یہ سن کر لوگ مایوس ہو گئے، ایسا لگا کہ اب یہ زندگی بھر کبھی ہنسیں گے نہیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کی یہ ( مایوسانہ ) کیفیت و گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا: ”اچھے بھلے کام کرو اور خوش ہو جاؤ ( اچھے اعمال کے صلے میں جنت پاؤ گے ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم ایسی دو مخلوق کے ساتھ ہو کہ وہ جس کے بھی ساتھ ہو جائیں اس کی تعداد بڑھا دیں، ایک یاجوج و ماجوج اور دوسرے وہ جو اولاد آدم اور اولاد ابلیس میں سے ( حالت کفر میں ) مر چکے ہیں، آپ کی اس بات سے لوگوں کے رنج و فکر کی اس کیفیت میں کچھ کمی آئی جسے لوگ شدت سے محسوس کر رہے تھے اور اپنے دلوں میں موجود پا رہے تھے۔“ آپ نے فرمایا: ”نیکی کا عمل جاری رکھو، اور ایک دوسرے کو خوشخبری دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! تم تو لوگوں میں بس ایسے ہو جیسے اونٹ ( جیسے بڑے جانور ) کے پہلو ( پسلی ) میں کوئی داغ یا نشان ہو، یا چوپائے کی اگلی دست میں کوئی تل ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
It is narrated by Hadrat ' Imran bin Husain that "We were with the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) on a journey when some of his Companions fell behind. So the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) raised his voice reciting these two Ayat: "O mankind! Have Taqwa of your Lord! Verily the earthquake of the hour is a terrible thing..." up to His saying: but Allah's torment is severe (21:1 & 2)." When his Companions heard that, they hastened to catch up with him, since they knew that he had something to say. He (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Do you know what Day this is? That is the Day when Adam (upon him be peace) will be called. His Lord will call him and say: O Adam, send forth those who are to be sent to the Fire. He will say: O Lord! How many are to be sent to the Fire? He will say: From every one-thousand there are nine-hundred and ninety-nine for the Fire and one for Paradise. So the people despaired as if they would not smile again. When the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) saw the state of his Companions, he said: 'Strive hard and receive the good news. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him), you will be counted with two creations who are immense in numbers; Ya'juj and Ma'juj, and those who have died among the progeny of Adam and the progeny of Iblis.'" He said: "So some of the people's grief went away, and he (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Strive hard and receive the good news. By the One in Whose Hand is the soul of Muhammad (blessings and peace of Allah be upon him)! Among mankind, you are but like the mole on the flank of a camel, or a mark on the foreleg of a beast
حضرت عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، اور چلنے میں ایک دوسرے سے آگے پیچھے ہو گئے تھے، آپ نے بآواز بلند یہ دونوں آیتیں: «يا أيها الناس اتقوا ربكم إن زلزلة الساعة شيء عظيم» سے لے کر «عذاب الله شديد» تک تلاوت فرمائی، جب صحابہ نے یہ سنا تو اپنی سواریوں کو ابھار کر ان کی رفتار بڑھا دی، اور یہ جان لیا کہ کوئی بات ہے جسے آپ فرمانے والے ہیں، آپ نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون سا دن ہے؟“، صحابہ نے کہا: اللہ اور اس کے رسول زیادہ بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا: ”یہ وہ دن ہے جس دن اللہ تعالیٰ آدم علیہ السلام کو پکاریں گے اور وہ اپنے رب کو جواب دیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: «ابعث بعث النار» ”بھیجو جہنم میں جانے والی جماعت کو“، آدم علیہ السلام کہیں گے: اے ہمارے رب! «بعث النار» ”کیا ہے ( یعنی کتنے ) ؟“ اللہ کہے گا: ایک ہزار افراد میں سے نو سو ننانوے جہنم میں جائیں گے اور ایک جنت میں جائے گا، یہ سن کر لوگ مایوس ہو گئے، ایسا لگا کہ اب یہ زندگی بھر کبھی ہنسیں گے نہیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کی یہ ( مایوسانہ ) کیفیت و گھبراہٹ دیکھی تو فرمایا: ”اچھے بھلے کام کرو اور خوش ہو جاؤ ( اچھے اعمال کے صلے میں جنت پاؤ گے ) قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! تم ایسی دو مخلوق کے ساتھ ہو کہ وہ جس کے بھی ساتھ ہو جائیں اس کی تعداد بڑھا دیں، ایک یاجوج و ماجوج اور دوسرے وہ جو اولاد آدم اور اولاد ابلیس میں سے ( حالت کفر میں ) مر چکے ہیں، آپ کی اس بات سے لوگوں کے رنج و فکر کی اس کیفیت میں کچھ کمی آئی جسے لوگ شدت سے محسوس کر رہے تھے اور اپنے دلوں میں موجود پا رہے تھے۔“ آپ نے فرمایا: ”نیکی کا عمل جاری رکھو، اور ایک دوسرے کو خوشخبری دو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! تم تو لوگوں میں بس ایسے ہو جیسے اونٹ ( جیسے بڑے جانور ) کے پہلو ( پسلی ) میں کوئی داغ یا نشان ہو، یا چوپائے کی اگلی دست میں کوئی تل ہو“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔