عربی (اصل)
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَكَّةَ عَامَ الْفَتْحِ وَحَوْلَ الْكَعْبَةِ ثَلاَثُمِائَةٍ وَسِتُّونَ نُصُبًا فَجَعَلَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم يَطْعَنُهَا بِمِخْصَرَةٍ فِي يَدِهِ وَرُبَّمَا قَالَ بِعُودٍ وَيَقُولُ : (جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ) : (جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ ) . قَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَفِيهِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Ibn Mas'ud that "The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) entered Makkah during the year of the Conquest, and there were three hundred and sixty Nusb (Altars to sacrifice to idols) around the Sacred Ka'bah. So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) started hitting them with a stick he had in his hand" - or perhaps he said: "With a piece of wood, and he was saying: The truth has come and falsehood has vanished. Surely falsehood is ever bound to vanish (17:81). The truth has come and falsehood can neither originate anything nor resurrect (anything) (34:)
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جس سال مکہ فتح ہوا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ کے اردگرد تین سو ساٹھ بت نصب تھے، آپ اپنے ہاتھ میں لی ہوئی چھڑی سے انہیں کچوکے لگانے لگے ( عبداللہ نے کبھی ایسا کہا ) اور کبھی کہا کہ آپ اپنے ہاتھ میں ایک لکڑی لیے ہوئے تھے، اور انہیں ہاتھ لگاتے ہوئے کہتے جاتے تھے «جاء الحق وزهق الباطل إن الباطل كان زهوقا» ”حق آ گیا باطل مٹ گیا باطل کو مٹنا اور ختم ہونا ہی تھا“ ( بنی اسرائیل: ۸۱ ) ، «جاء الحق وما يبدئ الباطل وما يعيد» ”حق غالب آ گیا ہے، اب باطل نہ ابھر سکے گا اور نہ ہی لوٹ کر آئے گا“ ( سبا: ۴۹ ) ۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ اور اس باب میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے بھی روایت ہے۔
