عربی (اصل)
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلاَنَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، قَالَ لَمَّا نَزَلَتْ : (لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ) جَاءَ عَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ إِلَى النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم - قَالَ وَكَانَ ضَرِيرَ الْبَصَرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَأْمُرُنِي إِنِّي ضَرِيرُ الْبَصَرِ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الآيَةَ : ( غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ ) الآيَةَ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " ائْتُونِي بِالْكَتِفِ وَالدَّوَاةِ أَوِ اللَّوْحِ وَالدَّوَاةِ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَيُقَالُ عَمْرُو ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَيُقَالُ عَبْدُ اللَّهِ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ وَهُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَائِدَةَ وَأُمُّ مَكْتُومٍ أُمُّهُ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Al-Bara bin 'Azib that "When the following was revealed: 'Not equal are those of the believers who sit (4:95)' 'Amr bin Umm Maktum came to the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him)." He said: "He was blind, so he submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! What do you order me with? Indeed my vision is disabled.' So Allah [Most High] revealed this Ayah: 'Except those who are disabled.' So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) stated: 'Bring me a shoulder bone and inkwell' - or 'Bring me a tablet and an inkwell
اردو ترجمہ
حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ جب آیت «لا يستوي القاعدون من المؤمنين» ”اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مومن اور بیٹھے رہ جانے والے مومن برابر نہیں“ ( النساء: ۹۵ ) نازل ہوئی تو عمرو بن ام مکتوم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے، وہ نابینا تھے، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں، میں تو اندھا ہوں؟ تو اللہ تعالیٰ نے آیت: «غير أولي الضرر» نازل فرمائی، یعنی مریض اور معذور لوگوں کو چھوڑ کر، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میرے پاس شانہ کی ہڈی اور دوات لے آؤ ( یا یہ کہا ) تختی اور دوات لے آؤ کہ میں لکھا کر دے دوں کہ تم معذور لوگوں میں سے ہو“۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ۲- اس روایت میں عمرو بن ام مکتوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا گیا ہے، انہیں عبداللہ بن ام مکتوم بھی کہا جاتا ہے، وہ عبداللہ بن زائدہ ہیں، اور ام مکتوم ان کی ماں ہیں۔
