عربی (اصل)
حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ بَهْرَامَ، أَنَّهُ سَمِعَ شَهْرَ بْنَ حَوْشَبٍ، يَقُولُ سَمِعْتُ أَسْمَاءَ بِنْتَ يَزِيدَ، تُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم مَرَّ فِي الْمَسْجِدِ يَوْمًا وَعُصْبَةٌ مِنَ النِّسَاءِ قُعُودٌ فَأَلْوَى بِيَدِهِ بِالتَّسْلِيمِ وَأَشَارَ عَبْدُ الْحَمِيدِ بِيَدِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ . قَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لاَ بَأْسَ بِحَدِيثِ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ بَهْرَامَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ . وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ شَهْرٌ حَسَنُ الْحَدِيثِ وَقَوَّى أَمْرَهُ وَقَالَ إِنَّمَا تَكَلَّمَ فِيهِ ابْنُ عَوْنٍ ثُمَّ رَوَى عَنْ هِلاَلِ بْنِ أَبِي زَيْنَبَ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ . أَنْبَأَنَا أَبُو دَاوُدَ الْمَصَاحِفِيُّ بَلْخِيٌّ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ إِنَّ شَهْرًا نَزَكُوهُ . قَالَ أَبُو دَاوُدَ قَالَ النَّضْرُ تَرَكُوهُ أَىْ طَعَنُوا فِيهِ وَإِنَّمَا طَعَنُوا فِيهِ لأَنَّهُ وَلِيَ أَمْرَ السُّلْطَانِ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat Asma bint Yazid that the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) passed through the Masjid one day, and a group of women were sitting, so he motioned his hand with the Salam - 'Abdul-Hamid (one of the narrators) gestured with his hand
اردو ترجمہ
حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ایک دن مسجد میں گزرے وہاں عورتوں کی ایک جماعت بیٹھی ہوئی تھی، چنانچہ آپ نے انہیں اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلام کیا ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: ۱- یہ حدیث حسن ہے، ۲- عبدالحمید ( راوی ) نے بھی پتے ہاتھ سے اشارہ کیا ( کہ اس طرح ) ، ۳- احمد بن حنبل کہتے ہیں: شہر بن حوشب کے واسطہ سے عبدالحمید بن بہرام کی روایت میں کوئی حرج نہیں ہے، ۴- محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں: شہر حسن الحدیث ہیں اور ان کو روایت حدیث میں قوی بخاری کہتے ہیں: ان کے بارے میں ابن عون نے کلام کیا ہے۔ ابن عون کہتے ہیں: «إن شهرا نزكوه» کے واسطہ سے کہا: شہر کی شخصیت کو محدثین نے داغ دار بتایا ہے۔ حضرت ابوداؤد کہتے ہیں کہ نضر کہتے ہیں «نزكوه» کا مطلب یہ ہے کہ «طعنوا فيه» یعنی ان کی شخصیت کو داغ دار بتایا ہے، اور لوگوں نے ان پر جرح اس لیے کی ہے کہ وہ سلطان ( حکومت ) کے ملازم بن گئے ہیں۔
