حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَاعَةٍ لاَ يَخْرُجُ فِيهَا وَلاَ يَلْقَاهُ فِيهَا أَحَدٌ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ " مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ " . فَقَالَ خَرَجْتُ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ وَالتَّسْلِيمَ عَلَيْهِ . فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ " مَا جَاءَ بِكَ يَا عُمَرُ " . قَالَ الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا قَدْ وَجَدْتُ بَعْضَ ذَلِكَ " . فَانْطَلَقُوا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الأَنْصَارِيِّ وَكَانَ رَجُلاً كَثِيرَ النَّخْلِ وَالشَّاءِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ خَدَمٌ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَالُوا لاِمْرَأَتِهِ أَيْنَ صَاحِبُكِ فَقَالَتِ انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ . فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ جَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ بِقِرْبَةٍ يَزْعَبُهَا فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَاءَ يَلْتَزِمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَيُفَدِّيهِ بِأَبِيهِ وَأُمِّهِ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِمْ إِلَى حَدِيقَتِهِ فَبَسَطَ لَهُمْ بِسَاطًا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى نَخْلَةٍ فَجَاءَ بِقِنْوٍ فَوَضَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَلاَ تَنَقَّيْتَ لَنَا مِنْ رُطَبِهِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَخْتَارُوا أَوْ قَالَ تَخَيَّرُوا مِنْ رُطَبِهِ وَبُسْرِهِ . فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظِلٌّ بَارِدٌ وَرُطَبٌ طَيِّبٌ وَمَاءٌ بَارِدٌ " . فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ لِيَصْنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَذْبَحَنَّ ذَاتَ دَرٍّ " . قَالَ فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا أَوْ جَدْيًا فَأَتَاهُمْ بِهَا فَأَكَلُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ خَادِمٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَإِذَا أَتَانَا سَبْىٌ فَائْتِنَا " . فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَأْسَيْنِ لَيْسَ مَعَهُمَا ثَالِثٌ فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اخْتَرْ مِنْهُمَا " . فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ اخْتَرْ لِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا " . فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ مَا أَنْتَ بِبَالِغٍ مَا قَالَ فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ أَنْ تَعْتِقَهُ قَالَ فَهُوَ عَتِيقٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا وَلاَ خَلِيفَةً إِلاَّ وَلَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَبِطَانَةٌ لاَ تَأْلُوهُ خَبَالاً وَمَنْ يُوقَ بِطَانَةَ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Abu Hurairah narrated :"The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went out during an hour in which he would normally not go out, nor meet with anyone. Then Hadrat Abu Bakr came to him. So he said: "What brought you O Hadrat Abu Bakr?" He said: "I came to meet the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and to look at his face, and to make sure he was safe. It was not long before 'Umar came. He said: "What has brought you O 'Umar ?" He said: "Hunger O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!"He said: "I also experienced some of that" So they went to the home of Abu Al-Haitham At-Taiyyihan Al-Ansari. He was a man with many date-palms and sheep, but he had no servants so they did not find him there. They said to his wife: "Where is your companion?" She said: "He has gone to fetch us some good water." It was not long before Abu Al-Haitham came along hauling to a large water-skin which he put down. Then he came to hug the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and uttered that his father and mother should be ransomed for him. Then he went to grove of his and he spread out a mat for them. Then he went to a date-palm and returned with a cluster of dates which he put down. The prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Why don't you select some ripe dates for us?" He submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I wanted you to select from the ripe dates and the unripe dates." So they ate and they drank from that water. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "By the One in Whose Hand is my soul! This is among the favors which you shall be asked about on the Day of Judgement. Cool shade, tasty ripe dates, and cool water." Abu Al-Haitham left to prepare some food for them. The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Do not slaughter one with milk." So he Slaughtered a small female or male goat and brought it to them so they could eat it. The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Do you have any servants?" He said: "No." So he said: "Then if we get some captives we shall bring them for you." So (later) the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came with 2 males, there was no third among them and he brought them to Abu Al-Haitham. The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Choose from them." He submitted: "O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah! Choose for me." So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Indeed the one consulted is entrusted. Take this one for I have seen him praying, and encourage him to do well." So Abu Al-Haitham went to his wife and informed her of what the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said. So his wife said: "You will not fulfill what the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said until you have freed him." So he said: "He is free." So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Indeed Allah has not send a the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) nor made a Khalifah except that he has two groups of supporters, group ordering him to do good, and prohibiting him from evil and a group that never ceases spoiling his affairs. So whoever protected
اردو ترجمہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خلاف معمول ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ جب آپ نہیں نکلتے تھے اور نہ اس وقت آپ سے کوئی ملاقات کرتا تھا، پھر آپ کے پاس حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہنچے تو آپ نے پوچھا: حضرت ابوبکر تم یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس لیے نکلا تاکہ آپ سے ملاقات کروں اور آپ کے چہرہ انور کو دیکھوں اور آپ پر سلام پیش کروں، کچھ وقفے کے بعد عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: عمر! تم یہاں کیسے آئے؟ اس پر انہوں نے بھوک کی شکایت کی، آپ نے فرمایا: ”مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہے ۱؎، پھر سب مل کر ابوالہیشم بن تیہان انصاری کے گھر پہنچے، ان کے پاس بہت زیادہ کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں مگر ان کا کوئی خادم نہیں تھا، ان لوگوں نے ابوالھیثم کو گھر پر نہیں پایا تو ان کی بیوی سے پوچھا: تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، گفتگو ہو رہی تھی کہ اسی دوران! ابوالہیشم ایک بھری ہوئی مشک لیے آ پہنچے، انہوں نے مشک کو رکھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے لپٹ گئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر سب کو وہ اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے ایک بستر بچھایا پھر کھجور کے درخت کے پاس گئے اور وہاں سے کھجوروں کا گچھا لے کر آئے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا: ”ہمارے لیے اس میں سے تازہ کھجوروں کو چن کر کیوں نہیں لائے؟ عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ خود ان میں سے چن لیں، یا یہ کہا کہ آپ حضرات پکی کھجوروں کو کچی کھجوروں میں سے خود پسند کر لیں، بہرحال سب نے کھجور کھائی اور ان کے اس لائے ہوئے پانی کو پیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقیناً یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا اور وہ نعمتیں یہ ہیں: باغ کا ٹھنڈا سایہ، پکی ہوئی عمدہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی“، پھر ابوالھیثم اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کریں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا: ”دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا“، چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق انہوں نے بکری کا ایک مادہ بچہ یا نر بچہ ذبح کیا اور اسے پکا کر ان حضرات کے سامنے پیش کیا، ان سبھوں نے اسے کھایا اور پھر آپ نے ابوالھیثم سے پوچھا؟ کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس کوئی قیدی آئے تو تم ہم سے ملنا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو قیدی لائے گئے جن کے ساتھ تیسرا نہیں تھا، ابوالھیثم بھی آئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو پسند کر لو، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ خود ہمارے لیے پسند کر دیجئیے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیشک جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ لہٰذا تم اس کو لے لو ( ایک غلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کیونکہ ہم نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور اس غلام کے ساتھ اچھا سلوک کرنا“، پھر ابوالھیثم اپنی بیوی کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں سے اسے باخبر کیا، ان کی بیوی نے کہا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کو پورا نہ کر سکو گے مگر یہ کہ اس غلام کو آزاد کر دو، اس لیے ابوالھیثم نے فوراً اسے آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا خلیفہ کو نہیں بھیجا ہے مگر اس کے ساتھ دو راز دار ساتھی ہوتے ہیں، ایک اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، جب کہ دوسرا ساتھی اسے خراب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا، پس جسے برے ساتھی سے بچا لیا گیا گویا وہ بڑی آفت سے نجات پا گیا“ ۲؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ خَرَجَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم فِي سَاعَةٍ لاَ يَخْرُجُ فِيهَا وَلاَ يَلْقَاهُ فِيهَا أَحَدٌ فَأَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ " مَا جَاءَ بِكَ يَا أَبَا بَكْرٍ " . فَقَالَ خَرَجْتُ أَلْقَى رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم وَأَنْظُرُ فِي وَجْهِهِ وَالتَّسْلِيمَ عَلَيْهِ . فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ عُمَرُ فَقَالَ " مَا جَاءَ بِكَ يَا عُمَرُ " . قَالَ الْجُوعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " وَأَنَا قَدْ وَجَدْتُ بَعْضَ ذَلِكَ " . فَانْطَلَقُوا إِلَى مَنْزِلِ أَبِي الْهَيْثَمِ بْنِ التَّيِّهَانِ الأَنْصَارِيِّ وَكَانَ رَجُلاً كَثِيرَ النَّخْلِ وَالشَّاءِ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ خَدَمٌ فَلَمْ يَجِدُوهُ فَقَالُوا لاِمْرَأَتِهِ أَيْنَ صَاحِبُكِ فَقَالَتِ انْطَلَقَ يَسْتَعْذِبُ لَنَا الْمَاءَ . فَلَمْ يَلْبَثُوا أَنْ جَاءَ أَبُو الْهَيْثَمِ بِقِرْبَةٍ يَزْعَبُهَا فَوَضَعَهَا ثُمَّ جَاءَ يَلْتَزِمُ النَّبِيَّ صلى الله عليه وسلم وَيُفَدِّيهِ بِأَبِيهِ وَأُمِّهِ ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِمْ إِلَى حَدِيقَتِهِ فَبَسَطَ لَهُمْ بِسَاطًا ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى نَخْلَةٍ فَجَاءَ بِقِنْوٍ فَوَضَعَهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " أَفَلاَ تَنَقَّيْتَ لَنَا مِنْ رُطَبِهِ " . فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَرَدْتُ أَنْ تَخْتَارُوا أَوْ قَالَ تَخَيَّرُوا مِنْ رُطَبِهِ وَبُسْرِهِ . فَأَكَلُوا وَشَرِبُوا مِنْ ذَلِكَ الْمَاءِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " هَذَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مِنَ النَّعِيمِ الَّذِي تُسْأَلُونَ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ظِلٌّ بَارِدٌ وَرُطَبٌ طَيِّبٌ وَمَاءٌ بَارِدٌ " . فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ لِيَصْنَعَ لَهُمْ طَعَامًا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " لاَ تَذْبَحَنَّ ذَاتَ دَرٍّ " . قَالَ فَذَبَحَ لَهُمْ عَنَاقًا أَوْ جَدْيًا فَأَتَاهُمْ بِهَا فَأَكَلُوا فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " هَلْ لَكَ خَادِمٌ " . قَالَ لاَ . قَالَ " فَإِذَا أَتَانَا سَبْىٌ فَائْتِنَا " . فَأُتِيَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بِرَأْسَيْنِ لَيْسَ مَعَهُمَا ثَالِثٌ فَأَتَاهُ أَبُو الْهَيْثَمِ فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " اخْتَرْ مِنْهُمَا " . فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ اخْتَرْ لِي . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ الْمُسْتَشَارَ مُؤْتَمَنٌ خُذْ هَذَا فَإِنِّي رَأَيْتُهُ يُصَلِّي وَاسْتَوْصِ بِهِ مَعْرُوفًا " . فَانْطَلَقَ أَبُو الْهَيْثَمِ إِلَى امْرَأَتِهِ فَأَخْبَرَهَا بِقَوْلِ رَسُولِ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَتِ امْرَأَتُهُ مَا أَنْتَ بِبَالِغٍ مَا قَالَ فِيهِ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم إِلاَّ أَنْ تَعْتِقَهُ قَالَ فَهُوَ عَتِيقٌ . فَقَالَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم " إِنَّ اللَّهَ لَمْ يَبْعَثْ نَبِيًّا وَلاَ خَلِيفَةً إِلاَّ وَلَهُ بِطَانَتَانِ بِطَانَةٌ تَأْمُرُهُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَاهُ عَنِ الْمُنْكَرِ وَبِطَانَةٌ لاَ تَأْلُوهُ خَبَالاً وَمَنْ يُوقَ بِطَانَةَ السُّوءِ فَقَدْ وُقِيَ " . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ .
Hadrat Abu Hurairah narrated :"The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) went out during an hour in which he would normally not go out, nor meet with anyone. Then Hadrat Abu Bakr came to him. So he said: "What brought you O Hadrat Abu Bakr?" He said: "I came to meet the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) and to look at his face, and to make sure he was safe. It was not long before 'Umar came. He said: "What has brought you O 'Umar ?" He said: "Hunger O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)!"He said: "I also experienced some of that" So they went to the home of Abu Al-Haitham At-Taiyyihan Al-Ansari. He was a man with many date-palms and sheep, but he had no servants so they did not find him there. They said to his wife: "Where is your companion?" She said: "He has gone to fetch us some good water." It was not long before Abu Al-Haitham came along hauling to a large water-skin which he put down. Then he came to hug the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) and uttered that his father and mother should be ransomed for him. Then he went to grove of his and he spread out a mat for them. Then he went to a date-palm and returned with a cluster of dates which he put down. The prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Why don't you select some ripe dates for us?" He submitted: "O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! I wanted you to select from the ripe dates and the unripe dates." So they ate and they drank from that water. The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: "By the One in Whose Hand is my soul! This is among the favors which you shall be asked about on the Day of Judgement. Cool shade, tasty ripe dates, and cool water." Abu Al-Haitham left to prepare some food for them. The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Do not slaughter one with milk." So he Slaughtered a small female or male goat and brought it to them so they could eat it. The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Do you have any servants?" He said: "No." So he said: "Then if we get some captives we shall bring them for you." So (later) the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) came with 2 males, there was no third among them and he brought them to Abu Al-Haitham. The Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Choose from them." He submitted: "O the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) of Allah! Choose for me." So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Indeed the one consulted is entrusted. Take this one for I have seen him praying, and encourage him to do well." So Abu Al-Haitham went to his wife and informed her of what the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said. So his wife said: "You will not fulfill what the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said until you have freed him." So he said: "He is free." So the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) said: "Indeed Allah has not send a the Noble Prophet (blessings and peace of Allah be upon him) nor made a Khalifah except that he has two groups of supporters, group ordering him to do good, and prohibiting him from evil and a group that never ceases spoiling his affairs. So whoever protected
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم خلاف معمول ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ جب آپ نہیں نکلتے تھے اور نہ اس وقت آپ سے کوئی ملاقات کرتا تھا، پھر آپ کے پاس حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پہنچے تو آپ نے پوچھا: حضرت ابوبکر تم یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس لیے نکلا تاکہ آپ سے ملاقات کروں اور آپ کے چہرہ انور کو دیکھوں اور آپ پر سلام پیش کروں، کچھ وقفے کے بعد عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: عمر! تم یہاں کیسے آئے؟ اس پر انہوں نے بھوک کی شکایت کی، آپ نے فرمایا: ”مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہے ۱؎، پھر سب مل کر ابوالہیشم بن تیہان انصاری کے گھر پہنچے، ان کے پاس بہت زیادہ کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں مگر ان کا کوئی خادم نہیں تھا، ان لوگوں نے ابوالھیثم کو گھر پر نہیں پایا تو ان کی بیوی سے پوچھا: تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، گفتگو ہو رہی تھی کہ اسی دوران! ابوالہیشم ایک بھری ہوئی مشک لیے آ پہنچے، انہوں نے مشک کو رکھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے لپٹ گئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر سب کو وہ اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے ایک بستر بچھایا پھر کھجور کے درخت کے پاس گئے اور وہاں سے کھجوروں کا گچھا لے کر آئے اور اسے رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا: ”ہمارے لیے اس میں سے تازہ کھجوروں کو چن کر کیوں نہیں لائے؟ عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ خود ان میں سے چن لیں، یا یہ کہا کہ آپ حضرات پکی کھجوروں کو کچی کھجوروں میں سے خود پسند کر لیں، بہرحال سب نے کھجور کھائی اور ان کے اس لائے ہوئے پانی کو پیا، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقیناً یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا اور وہ نعمتیں یہ ہیں: باغ کا ٹھنڈا سایہ، پکی ہوئی عمدہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی“، پھر ابوالھیثم اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کریں تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا: ”دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا“، چنانچہ آپ کے حکم کے مطابق انہوں نے بکری کا ایک مادہ بچہ یا نر بچہ ذبح کیا اور اسے پکا کر ان حضرات کے سامنے پیش کیا، ان سبھوں نے اسے کھایا اور پھر آپ نے ابوالھیثم سے پوچھا؟ کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا: ”جب ہمارے پاس کوئی قیدی آئے تو تم ہم سے ملنا“، پھر نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے پاس دو قیدی لائے گئے جن کے ساتھ تیسرا نہیں تھا، ابوالھیثم بھی آئے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو پسند کر لو، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ خود ہمارے لیے پسند کر دیجئیے۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بیشک جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ لہٰذا تم اس کو لے لو ( ایک غلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ) کیونکہ ہم نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور اس غلام کے ساتھ اچھا سلوک کرنا“، پھر ابوالھیثم اپنی بیوی کے پاس گئے اور رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی باتوں سے اسے باخبر کیا، ان کی بیوی نے کہا کہ تم نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی وصیت کو پورا نہ کر سکو گے مگر یہ کہ اس غلام کو آزاد کر دو، اس لیے ابوالھیثم نے فوراً اسے آزاد کر دیا، نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا خلیفہ کو نہیں بھیجا ہے مگر اس کے ساتھ دو راز دار ساتھی ہوتے ہیں، ایک اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، جب کہ دوسرا ساتھی اسے خراب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا، پس جسے برے ساتھی سے بچا لیا گیا گویا وہ بڑی آفت سے نجات پا گیا“ ۲؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔