عربی (اصل)
حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، قال: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، قَالَ حَدَّثَنَا صَاحِبٌ، لَنَا عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم فَقَالَ " لاَ يُعْدِي شَيْءٌ شَيْئًا " . فَقَالَ أَعْرَابِيٌّ يَا رَسُولَ اللَّهِ الْبَعِيرُ الْجَرِبُ الْحَشَفَةُ نُدْبِنُهُ فَيُجْرِبُ الإِبِلَ كُلَّهَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم " فَمَنْ أَجْرَبَ الأَوَّلَ لاَ عَدْوَى وَلاَ صَفَرَ خَلَقَ اللَّهُ كُلَّ نَفْسٍ وَكَتَبَ حَيَاتَهَا وَرِزْقَهَا وَمَصَائِبَهَا " . قَالَ أَبُو عِيسَى وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ وَأَنَسٍ . قَالَ وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيَّ الْبَصْرِيَّ قَالَ سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْمَدِينِيِّ يَقُولُ لَوْ حَلَفْتُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ لَحَلفْتُ أَنِّي لَمْ أَرَ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ .
انگریزی ترجمہ
Hadrat Ibn Mas'ud narrated:"The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) stood among us and said: 'One thing does not infect another.' So a Bedouin submitted: 'O Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him)! If a camel gets mangy glands and we leave it at the resting place of camels, then all of the camels get mange?' The Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) said: 'Who caused the first to get mange? There is no 'Adwa nor safar. Allah created every soul, so he wrote its life, its provision, and its afflictions.'" Note: The majority of scholars interpret this to mean that these things in and of themselves do not transmit or cause harm through supernatural or hidden means but that Allah is ultimately in control and any fearful superstition around these is false
اردو ترجمہ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی“، ایک اعرابی ( بدوی ) نے عرض کیا: اللہ کے رسول! خارشتی شرمگاہ والے اونٹ سے ( جب اسے باڑہ میں لاتے ہیں ) تو تمام اونٹ ( کھجلی والے ) ہو جاتے ہیں“، رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”پھر پہلے کو کس نے کھجلی دی؟ کسی کی بیماری دوسرے کو نہیں لگتی ہے اور نہ ماہ صفر کی نحوست کی کوئی حقیقت ہے، اللہ تعالیٰ نے ہر نفس کو پیدا کیا ہے اور اس کی زندگی، رزق اور مصیبتوں کو لکھ دیا ہے“ ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: اس باب میں حضرت ابوہریرہ، حضرت ابن عباس اور انس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں۔
