عربی (اصل)
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَابِسِ بْنِ رَبِيعَةَ، قَالَ قُلْتُ لأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَنْهَى عَنْ لُحُومِ الأَضَاحِي قَالَتْ لاَ وَلَكِنْ قَلَّ مَنْ كَانَ يُضَحِّي مِنَ النَّاسِ فَأَحَبَّ أَنْ يُطْعَمَ مَنْ لَمْ يَكُنْ يُضَحِّي وَلَقَدْ كُنَّا نَرْفَعُ الْكُرَاعَ فَنَأْكُلُهُ بَعْدَ عَشَرَةِ أَيَّامٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ . وَأُمُّ الْمُؤْمِنِينَ هِيَ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم وَقَدْ رُوِيَ عَنْهَا هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ .
انگریزی ترجمہ
It is narrated by Hadrat 'Abis bin Rabi'ah that "I said to the Mother of the Believers: 'Did the Beloved Messenger of Allah (blessings and peace of Allah be upon him) prohibit from the meat of the sacrifice?' She said: 'No, but only a few people could slaughter, so he liked that they feed those who did not slaughter. (Later) we would store a leg to eat after ten days
اردو ترجمہ
عابس بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے اُمّ المؤمنین سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم قربانی کا گوشت رکھنے سے منع فرماتے تھے؟ وہ بولیں: نہیں، لیکن اس وقت بہت کم لوگ قربانی کرتے تھے، اس لیے آپ چاہتے تھے کہ جو لوگ قربانی نہیں کر سکے ہیں انہیں کھلایا جائے، ہم لوگ قربانی کے جانور کے پائے رکھ دیتے پھر ان کو دس دن بعد کھاتے تھے ۱؎۔ امام ترمذی فرماتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے، اُمّ المؤمنین ( جن سے حدیث مذکور مروی ہے ) وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کی بیوی حضرت اُمّ المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں، ان سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
